بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

گناہ کرنے کے زمانے میں کی گئی عبادات کا حکم


سوال

اگر بیوی کی اپنے کزن سے بات چیت ہو، اور  شوہر نے سختی کے ساتھ بات چیت کرنے یا کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق رکھنے کا منع کیا ہو ۔ اور بیوی نےشوہر کو بتائے بغیر اور اس کی غیر موجودگی میں بات چیت کی ہے،  audio اور video کالز ، تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال تک،  بعد میں شوہر کو پتہ لگ گیا، اس کے بعد بیوی نے معافی مانگی اور شوہر نے معاف کر دیا، اس ایک سے ڈیڑھ سال کے درمیان بیوی نے جو عبادات کی، نماز روزے وغیرہ اس پر کیا شرعی حکم ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جب مذکورہ خاتون نے اپنی نافرمانی اور سرزد ہونے والے گناہوں پر  پشیمان ہوکر شوہر سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرکےآئندہ مذکورہ گناہوں سے مکمل اجتناب کا عزم کیا ہے،تو شوہر کے معاف کرنے کے ساتھ ساتھ  امید ہے کہ اللہ تعالیٰ  معاف فرمائیں گے، باقی گزشتہ عبادات   شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے ادا کیں تو وہ درست ہیں۔

تفسير روح المعاني میں ہے:

"يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ...

أخرجه ابن مردويه عن ابن عباس قال: «قال معاذ بن جبل: يا رسول الله ما التوبة النصوح؟ قال: أن يندم العبد على الذنب الذي أصاب فيعتذر إلى الله تعالى ثم لا يعود إليه كما لا يعود اللبن إلى الضرع»...

وقال الإمام النووي: التوبة ما استجمعت ثلاثة أمور: أن يقلع عن المعصية وأن يندم على فعلها وأن يعزم عزما جازما على أن لا يعود إلى مثلها أبدا فإن كانت تتعلق بآدمي لزم رد الظلامة إلى صاحبها أو وارثه أو تحصيل البراءة منه، و ركنها الأعظم الندم.

و في شرح المقاصد قالوا: إن كانت المعصية في خالص حق الله تعالى فقد يكفي الندم كما في ارتكاب الفرار من الزحف وترك الأمر بالمعروف، وقد تفتقر إلى أمر زائد كتسليم النفس للحد في الشرب وتسليم ما وجب في ترك الزكاة، ومثله في ترك الصلاة وإن تعلقت بحقوق العباد لزم مع الندم، والعزم إيصال حق العبد أو بدله إليه إن كان الذنب ظلما كما في الغصب والقتل العمد، ولزم إرشاده إن كان الذنب إضلالا له، والاعتذار إليه إن كان إيذاء كما في الغيبة إذا بلغته و لايلزم تفصيل ما اغتابه به إلا إذا بلغه على وجه أفحش." 

(سورة التحريم، رقم الآية:08، ج:14، ص:352، ط:داراحىاء التراث العربى)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144209200072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں