بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

گھر میں داخل ہونے کا طریقہ


سوال

جس گھر میں بہن بھائی اور ماں باپ اور خود رہتے ہوں اور سب حاضر ہوں تو گھر میں جانے کا کیا طریقہ ہے؟ اگر اپنے گھر میں سب سو رہے ہوں تو گھر میں کیسے داخل ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں بیوی کے علاوہ تمام محارم اور غیر محارم کی آرام گاہ (بیوت)  میں  داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا ضروری اور واجب ہے، چناں چہ ایک صحابی نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کیا میں گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنی والدہ سے بھی اجازت لوں؟ توآپ ﷺ  نے فرمایا:  ہاں اجازت لو،صحابی نے عرض کیا کہ میں ان کے ساتھ رہتا ہوں تب بھی اجازت لوں؟  تو آپﷺ نے فرمایا تم ان سے اجازت لو،پھر صحابی نے عرض کیا کہ میں ان کا خادم ہوں، تب بھی اجازت لوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کے اپنی والدہ کو برہنہ حالت میں دیکھو؟ تو صحابی نے کہا:نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: پھر آپ اجازت لو۔

لہذا آپ کے گھر میں جو بھائی ،بہنوں اور والدین کے الگ الگ کمرےہیں ، ان میں دن یا رات میں داخل ہونے سے پہلے آپ پر لازم ہے کہ اجازت لے کر ہی داخل ہوں، چاہے وہ اجازت صراحتًا ہو، کسی اشارے سے ہو یا آواز سے ہو، باقی کمرے کے علاوہ گھر کا مشترک حصہ جو کسی کی آرام گاہ نہیں ہے، اس میں داخل ہونے کے لیے مستقل اجازت لینے کی ضروت نہیں ہے، البتہ گھر کے باہر سے اندر داخل ہوتے وقت اپنے آنے کی خبر دینا (مثلًا: دستک دینا،  گھنٹی بجانا ، بلند آواز سے سلام کرنا، کھنکھارنا  وغیرہ)   بہتر  ہے۔

اسی طرح آرام  کے اوقات میں (جس کا اندازا قرائن سے یا معمول سے لگایا جاسکتاہے) گھر میں داخل ہونا ہو یا گھر سے باہر جانا ہو تو  دروازہ وغیرہ آہستہ سے کھولنا چاہیے؛ تاکہ آواز پیدا نہ ہو، اور آرام کرنے والے کے آرام میں خلل واقع نہ ہو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ  کا یہ معمول نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ رات میں تہجد کے لیے جب بیدار ہوتے تو بستر سے آہستہ سے اٹھتے اور دروازہ آہستہ سے کھولتے تھے۔ لہٰذا اگر گھر میں سب سورہے ہوں  اور باہر سے آنے والے کے پاس گھر کی چابی ہو تو اسے گھر میں داخل ہوتے وقت  بیل یا دروازہ بجانے سے اجتناب کرنا چاہیے، بوقتِ ضرورت بیل بجانے یا دستک دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح جب سب سورہے ہوں تو گھر میں داخل ہونے کے بعد بلند آواز سے سلام نہیں کرنا چاہیے، ہاں آہستہ آواز میں کرلینا چاہیے۔ اور اگر سب کے کمرے الگ الگ ہیں اور سب سورہے ہیں تو کسی کے بھی کمرے میں شدید ضرورت کے بغیر نہیں جانا چاہیے، ہاں اگر کمرہ مشترک ہو تو نگاہوں کو پست رکھتے ہوئے  دوسرے کے آرام کا خیال رکھتے ہوئے کمرے میں چلے جانا چاہیے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن عطاء، «أن رجلًا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أستأذن على أمي؟ فقال: " نعم " فقال الرجل: إني معها في البيت. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "استأذن عليها" فقال الرجل: إني خادمها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (استأذن عليها، أتحب أن تراها عريانة؟ " قال: لا. قال: " فاستأذن عليها» ". رواه مالك مرسلًا.

«(أن رجلًا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أستأذن) أي: أطلب الإذن عند إرادتي الدخول» ... فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: استأذن عليه) أي: ولو بنحو تنحنح وضرب رجل ورفع صوت".

(کتاب الآداب باب الاستیذان ج نمبر ۷ ص نمبر ۲۹۶۲،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں