بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

گھر کی خریداری کے لیے لون لینا


سوال

ہمیں گھر کے لیے لون چاہیے، ہمیں گھر کے لیے 5000000 (پچاس لاکھ) کا لون ملے گا، ہم فی الوقت کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، ہر ماہ 16000دیتے ہیں۔ 

جواب

اگر آپ کے سوال سے مقصود یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا گھر کی خریداری کے لیے بینک سے لون لینا جائزہے یا نہیں؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ:گھر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن  یہ ضرورت  کرایہ کے مکان میں رہ کر بھی پوری کی جاسکتی ہے، سود پر قرض (لون) لینا چاہے گھر کی خریداری کے لیے ہو یا تجارت کے لیے، چاہے بینک سے لیاجائے یا کسی اور ادارے سے، جائز نہیں ہے۔

لہذا کسی شخص کے پاس مکان خریدنے کے لیے اتنی رقم نہ ہو جس سے وہ مکان خرید سکے اور قسطوں پر خریدنے کی بھی کوئی جائز صورت نہ بن سکے اور غیرسودی قرض کا ملنا بھی ممکن نہ ہو تو بھی اس کے لیے سودی قرضہ لینے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کو چاہیے کہ  مکان خریدنے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کر دے اور  جب تک رقم جمع نہ ہو جائے اُس وقت تک کرایہ کے مکان میں رہے، شرعی حدود میں رہ کر کفایت شعاری سے کام لے، پھر جب پیسے جمع ہو جائیں تو اُن پیسوں سے مکان خرید لے۔

ہاں اگر کہیں سے غیر سودی قرض ملتا ہو تو رہائش کی ضرورت کے لیے بلاسود قرض لینا جائز ہے، تاہم جلد ادائیگی کی سعی کرنی چاہیے۔

قرآن کریم میں ہے:

{ أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا الله َ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} [البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے، اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔ (بیان القرآن )

سود کے ایک درہم کو رسول اللہﷺ نے 36مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ قرار دیا ہے۔حدیث شریف میں ہے:

 ’’عن عبد اللّٰه بن حنظلة غسیل الملائکة أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لَدرهمُ ربًا أشد عند اللّٰه تعالٰی من ست وثلاثین زنیةً في الخطیئة‘‘. (دار قطني)

نیز سود کا انجام تباہی اور بربادی ہی ہے۔ سودی معاملے کی سنگینی کا اندازا  اس سے لگایا جائے کہ اس گناہ کا اثر صرف براہِ راست سودی معاملہ کرنے والے دو اشخاص تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے متعلقہ افراد (جو کسی بھی طرح اس سودی معاملہ میں معاون بنتے ہیں، مثلاً: لکھنے والا، گواہ، وغیرہ) وہ سب اللہ کی لعنت اور اس کی رحمت سے دوری کے مستحق بن جاتے ہیں۔     خلاصہ یہ کہ سودی معاملہ اور سودی لین دین قرآن وحدیث کی رو سے حرام ہے۔ نیز اسلام میں جس طرح سود لینا حرام وناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام وناجائز ہے اور احادیثِ  مبارکہ میں دونوں پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی معاملہ دنیا اور آخرت  کی تباہی اور بربادی، ذلت اور رسوائی کا سبب ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، عموماً جو لوگ سود پر قرض لے کر اپنے کام  کرتے ہیں، ساری زندگی سود سے پیچھا چھڑانے میں گزرجاتی ہے، بلکہ بکثرت ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ اپنے اصل سرمایہ سے بھی ہاتھ دھونا پڑجاتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109203079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں