بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

گوہ اور سانپ کھانے کا حکم


سوال

گوہ اور سانپ کھانا جائز ہے؟

جواب

گوہ  اور سانپ  کا گوشت حرام ہے ،اس لیے ان کا گوشت کھانا جائز نہیں؛ کیوں کہ دونوں خبائث میں شامل  ہیں اور خبائث کاکھانا از روئے شرع  منع ہے۔

سنن ابی داود میں ہے:

"عن عبد الرحمن بن شبل: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ‌عن ‌أكل ‌لحم ‌الضب»."

ترجمہ:

حضرت عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:"رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانےسےمنع فرمایا"

[كتاب الأطعمة، باب في أكل الضب، ج:3، ص:354، ط: المكتبة العصرية، بيروت.]

الدرالمختار میں ہے:

"(ولا يحل ذو ناب يصيد بنابه) ...(أو طير) بيان لذي مخلب (ولا) ...(والغراب الأبقع) الذي يأكل الجيف لأنه ملحق بالخبائث قاله المصنف، ثم قال: والخبيث ما تستخبثه الطباع السليمة ... (والفيل) والضب، وما روي من أكله محمول على الابتداء (واليربوع وابن عرس والرخمة والبغاث) هو طائر دنيء الهمة يشبه الرخمة وكلها من سباع البهائم. وقيل الخفاش لأنه ذو ناب"

وفی الرد:

"قوله( ‌والخبيث إلخ) قال في معراج الدراية: أجمع العلماء على أن المستخبثات حرام بالنص وهو قوله تعالى - {ويحرم عليهم الخبائث} وما استطابه العرب حلال - {ويحل لهم الطيبات}، وما استخبثه العرب فهو حرام بالنص، والذين يعتبر استطابتهم أهل الحجاز من أهل الأمصار، لأن الكتاب نزل عليهم وخوطبوا به، ولم يعتبر أهل البوادي؛ لأنه للضرورة والمجاعة يأكلون ما يجدون."

[كتاب الذبائح،ج:6، ص:305، ط:سعيد]

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144311100416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں