بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گروی رکھنے کا حکم، قسطوں پر بیع کرنے کی شرائط


سوال

1۔گروی پر مکان لینے یا دینے کا حکم کیا ہے؟

2۔  نیز اقساط پر چیزیں خریدنا یا فروخت کرناکیسا ہے؟مدلل جواب درکار ہے۔

جواب

1۔واضح رہے کہ گروی "رہن"  کا  شرعی  حکم یہ  ہے کہ  ضرورت  کی  وجہ  سے کسی قرض کے  مقابلے میں "رہن" لینا اور دینا درست ہے، لیکن رہن میں رکھی جانے والی چیز  کی حیثیت محض ضمانت کی ہوتی ہے، اور رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز  اس کے اصل مالک  ہی کی  ملک  میں  رہتی ہے،  اور  مرتہن  (جس کے پاس چیز گروی رکھی ہو) کے لیے شرعاً اس کے استعمال اور اس سے نفع  کمانے  کی اجازت نہیں ہوتی، اگر رہن میں رکھی ہوئی چیز کو مرتہن نے استعمال کرلیا  یا زیادہ قیمت میں فروخت  کیا تو اُس چیز سے نفع حاصل کرنا  سود کے زمرے میں آئے گا؛ کیوں کہ رہن قرض کے بدلے ہوتا ہے اور قرض دے کر مقروض سے نفع حاصل کرنا سود ہے۔

لہذا  گروی پر مکان لینا دینا درست ہے، لیکن گروی میں لیا ہوا مکان سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔

2۔قسطوں پر خرید وفروخت جائز ہے، لیکن اس  میں  درج ذیل  شرائط کا لحاظ  اور رعایت کرنا ضروری ہے:

1.قسط کی رقم متعین ہو۔

2.مدت متعین ہو۔

3.معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار۔

4 .عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو ۔

5. ایک شرط یہ بھی  ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس  میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے۔

6. جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو ، اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا۔

ان  تمام شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے، لیکن اگر ان شرائط کی رعایت نہ ہو تو جائز نہیں ہوگا۔

1۔فتاوی شامی میں ہے:

"(هو) لغة: حبس الشيء. وشرعا (حبس شيء مالي) أي جعله محبوسا لأن الحابس هو المرتهن بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه (منه) كلا أو بعضا كأن كان قيمة المرهون أقل من الدين (كالدين) كاف الاستقصاء لأن العين لا يمكن استيفاؤها من الرهن إلا إذا صار دينا حكما كما سيجيء (حقيقة) وهو دين واجب ظاهرا وباطنا أو ظاهرا فقط كثمن عبد أو خل وجد حرا أو خمرا (أو حكما) كالأعيان (المضمونة بالمثل أو القيمة)..قوله كالأعيان المضمونة بالمثل أو القيمة) ويقال لها المضمونة بنفسها لقيام المثل أو القيمة مقامها كالمغصوب ونحوه مما سيجيء.واحترز به عن المضمونة بغيرها كمبيع في يد البائع فإنه مضمون بغيره وهو الثمن، وعن غير المضمونة أصلا كالأمانات."

(كتاب الرهن،  ج:6، ص:478، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"لا ‌يحل ‌له ‌أن ‌ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم."

(كتاب الرهن، ج:6، ص:482، ط:سعيد)

النتف في الفتاوى للسغدي" میں ہے:

"انواع الربا واما الربا فهو ثلاثة اوجه احدها في القروض  والثاني في الديون‌ والثالث ‌في ‌الرهون...‌‌الربا في الرهن واما الربا في الرهن فان ذلك على وجهين  احدهما في الانتفاع بالرهن والاخر باستهلاك ما يخرج من الرهن  فاما الانتفاع بالرهن مثل العبد يستخدمه والدابة يركبها والارض يزرعها والثوب يلبسه والفرش يبسطه ونحوها."

(كتاب البيوع، باب انواع الربا، ج:1، ص:484، ط:مؤسسة الرسالة - بيروت)

2۔شرح المجلۃ لسلیم رستم باز میں ہے :

"‌البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط."

(الكتاب الأول البيوع، الفصل الثانی  في بيان المسائل  المتعلقة بالنسيئة و التأجيل، المادة: 245،246،ج:1، ص:100،  ط:رشيدية)

وفیہ ایضاً:

"تأجيل الثمن  إلى مدة غير معينة كإمطار السماء يفسد البيع."

(الكتاب الأول البيوع، الفصل الثانی  في بيان المسائل  المتعلقة بالنسيئة و التأجيل، المادة: 248،ج:1، ص:101،  ط:رشيدية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا كان عليه ألف درهم نجية مؤجلة فصالحه على ألف سود حالة فإنه لا يجوز كذا في الذخيرة.‌لو ‌كانت ‌له ‌ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لا يجوز كذا في الهداية."

(كتاب الصلح، الباب الثاني في الصلح في الدين، ج:4، ص:232، ط:دارالفكر)

فقہ البیوع علی المذاھب الاربعہ میں ہے:

"وكما يجوز ضرب الأجل لأداء الثمن دفعة واحدة، كذلك يجوز أن يكون أداء الثمن بأقساط، بشرط أن تكون آجال الأقساط و مبالغها معينة عند العقد، و قد يسمى: البيع بالتقسيط، و هو نوع من البيع المؤجل، و الأقساط قد تسمى نجوما."

(الباب الخامس من حيث طريق وفاء العوضين، ج:1، ص:525، ط:مكتبة  معارف القرآن)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144501100747

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں