بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم مصنفین کی کتابیں پڑھنے کا حکم


سوال

 یہ معلوم کرنا تھا کہ دنیاوی امورپر لکھی گئیں غیر مسلم مصنفین کی سیلف ہیلپ (اپنے مدد آپ)  کی کتابیں پڑھنا جس میں کوئی مذہب کی بات نہیں ہوتی ، اور اس کو اپنا مشغلہ بنانے سے بحیثیت ایک نوجوان مسلمان کسی طرح روحانی ظلمت یاتاریکی کاموجب تو نہیں بنے گا کہ اعمال صالحہ سستی کرنے لگے یاعقیدہ حقہ میں فساد کابا عث تو نہیں بنے گا جوکہ میرا تعلق ایک مذھبی گھرانے سے ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ غیر مسلموں  کے مذھب کی کتابیں پڑھنا ہر آدمی کے لیے جائز نہیں ہے، اسی طرح جو مذھب سے ہٹ کر دنیاوی امور کے متعلق ان کی کتابیں ہے، ان میں جو فلسفہ ، اور نظریات پر مشتمل ہے اس کا پڑھنا بھی درست نہیں ہے،تاہم  اگر ان  کی کتابوں میں  فلسفہ، اشکالات وغیرہ کا ذکر نہ ہو  اور اس کے پڑھنے سے عقائد ، اخلاق ، اور معاشرت خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر اس کے پڑھنی کی گنجائش   ہے، البتہ اس کو اپنا  مشغلہ بنانا  درست نہیں ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن جابر: (أن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنسخة من التوراة، فقال: يا رسول الله هذه نسخة من التوراة، فسكت فجعل يقرأ و وجه رسول الله يتغير، فقال أبو بكر: ثكلتك الثواكل! ما ترى ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟! فنظر عمر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أعوذ بالله من غضب الله و غضب رسوله صلى الله عليه وسلم رضينا بالله ربًّا و بالإسلام دينًا و بمحمد نبيًّا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "و الذي نفس محمّد بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه و تركتموني لضللتم عن سواء السبيل و لو كان حيًّا و أدرك نبوتي لاتبعني." رواه الدارمی."

(‌‌باب الاعتصام بالكتاب والسنة، الفصل الثالث، ج:1، ص:51، ط:المكتب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"و اختار سيدي عبد الغني ما في الخلاصة، و أطال في تقريره، ثم قال: و قد نهينا عن النظر في شيء منها سواء نقلها إلينا الكفار أو من أسلم منهم."

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:175، ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"السؤال عن الأخبار المحدثة في البلدة وغير ذلك المختار أنه لا بأس بالاستخبار والإخبار كذا في الخلاصة ... و تعلم علم النجوم لمعرفة القبلة وأوقات الصلاة لا بأس به والزيادة حرام كذا في الوجيز للكردري.تعلم الكلام والنظر والمناظرة فيه وراء قدر الحاجة مكروه وقيل الجواب في هذه المسألة إن كثرة المناظرة والمبالغة في المجادلة مكروه لأن ذلك يؤدي إلى إشاعة البدع والفتن وتشويش العقائد وهذا ممنوع جدا كذا في جواهر الأخلاطي.ولا يناظر في المسألة الكلامية إذا لم يعرفها على وجهها وكان محمد - رحمه الله تعالى - يناظر فيها كذا في الملتقط." 

(كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:377، ط:دار الفكر)

وفیہ ایضاً:

"ومن العلوم المذمومة علوم الفلاسفة فإنه لا يجوز قراءتها لمن لم يكن متجرا في العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن إشكالاتهم."

(كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:378، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506100461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں