بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

غیر وقف شدہ مسجد میں اعتکاف کا حکم


سوال

کیا غیروقف شدہ مسجد میں اعتکاف جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایسی مسجد  جس کو  باقاعدہ وقف نہیں کیا گیا ہو وہ مسجدِ  شرعی کے حکم میں نہیں ہے، بلکہ مصلی کے حکم میں ہے۔ مرد کے لیے اس میں اعتکافِ مسنون ادا کرنا درست نہیں ہے، اس کے لیے مستقل مسجد شرعی ہونا ضروری ہے۔ البتہ ایسی جگہ میں پنج وقتہ نماز، تراویح اور جمعے کی شرائط (مثلاً: یہ جگہ شہر یا مضافاتِ شہر یا بڑی بستی میں ہو، اور کم از کم چار بالغ مرد جماعت میں ہوں اور عربی میں خطبہ دیا جائے خواہ قرآنِ پاک کی چند آیات پڑھ کر وغیرہ) موجود ہونے کی صورت میں جمعے کا قیام درست ہے۔

قال في البحر:

"وحاصله أن شرط کونه مسجداً أن یکون سفله وعلوه مسجداً لینقطع حق العبد عنه".

(شامی: ۶/۵۴۷، ط: زکریا دیوبند)

"وفي الفتاوی الغیاثیة: لو صلی الجمعة في قریة بغیر مسجد جامع والقریة کبیرة لها قری، وفیها والٍ وحاکم جازت الجمعة بنوا المسجد أو لم یبنوا و هو قول أبي القاسم الصفار، وهذا أقرب الأقاویل إلی الصواب".

(حلبي کبیر، ص: ۵۵۱، کتاب الصلاة، فصل في صلاة الجمعة)

السنن الکبری للبیھقی میں ہے:

"أَنْ لاَيَخْرُجَ إِلاَّ لِلْحَاجَةِ الَّتِي لاَ بُدَّ مِنْهَا، وَلاَيَعُودُ مَرِيضًا، وَلاَيَمَسُّ امْرَأَةً، وَلاَ يُبَاشِرُهَا، وَلاَ اعْتِكافَ إِلاَّ فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ. وَالسُّنَّةُ فِيمَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ".

(4: 315، رقم: 8354، مکة المکرمة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144205200317

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں