بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کو ان کے میلے یا چترا کے موقع پر پانی پلانا


سوال

غیر مسلموں کے میلے یا چترا کے موقع پر ان کو پانی پلانا کیسا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں غیر مسلموں کے میلے وغیرہ کے موقع پر ان کو پانی پلانا ان سے اظہار محبت کی علامت ہے لہذا شرعا ایسا کرنا جائز نہیں ہےاور اگر ان کے تہوار کے دن کی تعظیم کرتے ہوئے پانی پلایا تو کفر کا اندیشہ ہے۔البتہ عام دنوں میں غیر مسلموں اور ان کے جانوروں کو پانی پلانے میں کوئی حرج نہیں۔

البحرا لرائق میں ہے:

"قال رحمه الله(والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله - لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكي لا يكون تشبيها بأولئك القوم، وقد قال - صلى الله عليه وسلم - «من تشبه بقوم فهو منهم» وقال في الجامع الأصغر رجل اشترى يوم النيروز شيئا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لا يكفر."

(مسائل شتي جلد 8 ص: 555 ط: دارالکتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144411102668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں