بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رمضان 1442ھ 22 اپریل 2021 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم پر افسوس کرنا


سوال

غیر مسلم پر افسوس کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر سوال کا مقصد یہ ہے کہ   غیر مسلم کے انتقال  کے پر اس لیے افسوس کرنا کہ بغیر ایمان کے دنیا سے چلا گیا ہے، کاش کہ  مسلمان ہو جاتا اور ایمان کی حالت میں  فوت جاتا تو جنت میں چلاجاتا، یا اسے کسی مصبیت  اور دکھ میں مبتلا دیکھ کر انسان ہونے کے ناطے اس پر افسوس کرنے میں حرج نہیں ہے۔ اور اگر آپ کی مراد غیر مسلم پر افسوس کرنے سے اس کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب سے تعزیت کرنا ہے تو غیر مسلم کے انتقال پر تعزیت کرسکتے ہیں، تاہم دعائے مغفرت نہ کی جائے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

غیر مسلم سے تعزیت اور اس کے الفاظ

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں