بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1442ھ 24 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

غیرمسلم ممالک میں ملنے والے غیرحلال شدہ مرغی کے گوشت کا حکم


سوال

میں برطانیہ میں رہائش پذیر ہوں یہاں پر ایسے لوگ ہیں جومرغی کا ایسا گوشت استعمال کرتے ہیں جو حلال کیا ہوا نہیں ہوتا۔ یہ گوشت تقریباً ہر سپرمارکیٹ سے باآسانی مل جاتاہے۔ مختلف جواز پیش کیے جاتے ہیں جیسا کہ عیسائی اہل کتاب ہیں اس لیے ان کا ذبح کیا ہوا گوشت کھانا جائز ہے واضح رہے کہ ایسا جواز صرف مرغی کے گوشت کے لیے استعمال ہوتاہے، بکرے یا دنبہ کے بارے میں ابھی تک میرے علم میں کوئی بات نہیں آئی ۔ بعض بنگالی مسلمان بھائیوں سے بات کی ہےاوران کا کہنا ہے کہ مرغی کا گوشت چونکہ مکروہ ہےاس لیے اس کا کھانا جائز ہے چاہے حلال ہو یاغیرحلال شدہ ۔برطانیہ میں بہت ساری حلال گوشت کی دکانیں ہیں اور گوشت باآسانی اورسستے داموں مل جاتاہے۔ کیا پھر بھی غیرحلال شدہ مرغی کے گوشت کا استعمال جائز ہے ؟میں نے امریکا میں رہنے والے اپنے کچھ رشتے داروں سے بات کی ہے اور ان کا نظریہ بھی ایسا ہےکہ ایسے گوشت کا استعمال جائز ہے۔مہربانی فرماکر اس سلسلے میں راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی جانورکا ذبیحہ شرعاً درست ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں۔ منجملہ ان شرائط کے یہ بھی ہے جانورکوذبح کرنے والا مسلمان ہو یااپنے دین اورمذہب سے واقف اہل کتاب یہودونصاریٰ ہوں جوکہ اپنے مذہب کے اصول پر کاربند ہو پیغمبر اورآسمانی کتابوں کا ماننے والاہو، اور جانورکو اللہ کانام لے کر ذبح کرتاہو، ذبح کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اورکا نام نہ لیتا ہو، ایسے اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے اوراس کا گوشت کھانا جائز ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اکثراہل کتاب ملحد، بددین، دہریہ ہیں۔ صرف نام کے اہل کتاب ہیں، ان کے اقوال و افعال سے معلوم ہوتاہے کہ وہ مذہب سے بیزار ہیں تو ایسے یہودونصاریٰ کو اہل کتاب کہنا چونکہ مشکل ہے اس لیے ان کاذبیحہ کھانے سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ بس اگر حلال اورغیر مشتبہ گوشت مرغی جب باآسانی میسربھی ہےتو اس کو چھوڑکرمشتبہ اورغیرحلال شدہ گوشت کواختیارکرنا کسی طورسے جائز نہیں، اس سے اورایسے نام نہاد اہل کتاب کے ذبیحہ سے مکمل طورپراحتراز کرنا ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں