بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم لڑکی سے نکاح


سوال

کیا مسلمان غیر مسلم لڑکی سے شادی کر سکتا ہے اس خیال سے کہ ابھی نہ سہی، لیکن آگے چل کر جب وہ اسلامی ماحول میں آجائے گی تو شاید وہ اسلام قبول کر لے گی۔ یا شادی کے بعد مجھے اچھی طرح موقع مل جائے گا تو اس کو سمجھا بجھا کر میں اس کو اسلام پر لا پاؤں گا؟

جواب

اگر وہ غیرمسلم لڑکی کسی آسمانی دین کی ماننے والی نہیں، بلکہ دہریہ یا مشرکہ  ہے تو اس سے نکاح کرنا حرام ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے کہ مسلمان مرد   غیرمسلم عورت سے  نکاح نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائے: {وَلاَ تَنْکِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ}.

اور اگر وہ غیرمسلم لڑکی اہلِ کتاب (یعنی عیسائی یا یہودی مذہب کی پیروکار) ہو  تو اس سے نکاح کرنا مکروہ ہے، کیوں کہ ان کے ساتھ بود وباش کی صورت میں اپنے یا اپنے بچوں کے دین اور ان کی  اسلامی روایات کو بچانا مشکل ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دورمبارک میں اس پرسخت ناراضی کا اظہار فرمایا تھا۔

نیز اہلِ کتاب سے نکاح سے متعلق دوباتیں سمجھنے کی ہیں:

1-   اہلِ کتاب لڑکی سے نکاح اس وقت جائزہے جب وہ حقیقتاً  آسمانی کتاب کی ماننے والی اور اس کی تابع دار ہو، گو وہ تثلیث کا عقیدہ رکھتی ہو، لیکن دھریہ اور لادین نہ ہو۔

2-  مسلمان مرد کو کتابیہ عورت کے ساتھ  اس شرط کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے کہ وہ مسلمان مرد اسلام کی قوی اور روشن حجتوں اور مضبوط دلائل  کے ذریعے کتابیہ عورت اور اس کے خاندان کے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرسکے، اگر یہ اندیشہ ہو کہ کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد خود مسلمان مرد اپنے ایمان کو قربان کربیٹھے گا تو پھرمسلمان مرد کو کتابیہ سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 281):

"ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرةً كانت أو أمةً، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لايفعل".

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201232

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں