بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کا گھر اور اس کی پوجا والا کمرہ ڈیزائن کرنا اور اس کی اجرت لینا


سوال

میرا کام ڈیزائننگ وغیرہ سے متعلق ہے، میرے پاس ایک غیر مسلم کے گھر  کا کام ہے، اس کا پورا ڈیزائن وغیرہ بنانا ہے اور اس میں پوجا کرنے کے لیے کمرے کا ڈیزائن بھی بنانا ہے،  میرے لیے اس میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں غیر مسلم کا گھر ڈیزائن کرنا جائز ہے، اور اس کی آمدنی بھی جائز ہے، لیکن اس گھر میں خاص پوجا کرنے والے کمرے کو پوجا کے مخصوص طرز پر  ڈیزائن کرنا  چوں کہ  گناہ کے کام پر تعاون کا سبب بنے گا، اور  گناہوں کے کام میں دوسرے کا تعاون کرنا  بھی  گناہ ہے،   اس لیے اس پوجا والے کمرے کا ڈیزائن کرنا اور اس کی اجرت لینا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 391):

"(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)  لا عصرها؛ لقيام المعصية بعينه.

(قوله :  وحمل خمر ذمي) قال الزيلعي: وهذا عنده، وقالا: هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل و هو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره.

وفي المحيط لايكره بيع الزنانير من النصراني والقلنسوة من المجوسي، لأن ذلك إذلال لهما وبيع المكعب المفضض للرجل إن ليلبسه يكره، لأنه إعانة على لبس الحرام وإن كان إسكافاً أمره إنسان أن يتخذ له خفا على زي المجوس أو الفسقة أو خياطا أمره أن يتخذ له ثوبا على زي الفساق يكره له أن يفعل لأنه سبب التشبه بالمجوس والفسقة اهـ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200016

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں