بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غیرِ رمضان کا روزہ جان بوجھ کر توڑنے کا حکم


سوال

اگر میاں بیوی دونوں سحری کریں اور خاوند نفلی روزے کی نیت کرے اور بیوی اپنے رمضان کے قضا روزے کی نیت کرے، لیکن پھر خاوند کے اصرار پر صبح آٹھ بجے سے پہلے دونوں ہم بستری اور صحبت کرلیں اور ہم بستری اور صحبت کرنے سے پہلے خاوند بیوی سے کہے کہ آج نہ میں نے روزہ رکھنا ہے اور نہ آپ نے اور پھر دونوں ہم بستری اور صحبت کر لیتے ہیں، تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا کیا جائے؟ اور ایک ضروری بات یہ کہ دونوں نے ہم بستری اور صحبت کر کے ہی روزہ توڑا، نہ کچھ پہلے کھایا نہ پیا!

جواب

جس طرح جان بوجھ کر کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح جان بوجھ کر ہم بستری کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کے بدلہ ایک قضا روزہ رکھنا واجب ہوتا ہے۔ اور اگر رمضان مبارک میں روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کرکے فرض روزہ رکھا اور جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے توڑا ہے تو ایک قضا روزہ کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوتا ہے۔ ایک روزہ کا کفارہ ساٹھ مسلسل روزے رکھنا یا اس کی طاقت نہ ہونے کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کے کھانا کھلانا ہے۔ رمضان مبارک کے سوا اور کسی روزے کے توڑنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا چاہے جس طرح توڑے اگرچہ وہ روزہ رمضان کی قضا ہی کیوں نہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں غیرِ رمضان کا روزہ جان بوجھ  کر توڑنے کی وجہ سے، میاں بیوی پر الگ الگ اس روزہ کے بدلہ صرف ایک قضا روزہ رکھنا واجب ہے، کفارہ واجب نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج:2، ص:102، ط: دار الكتب العلمية):

’’و أما وجوب الكفارة فيتعلق بإفساد مخصوص و هو الإفطار الكامل بوجود الأكل أو الشرب أو الجماع صورة و معنى متعمدا من غير عذر مبيح و لا مرخص و لا شبهة الإباحة...

و أما صيام غير رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد صوم رمضان عرف بالتوقيف، و أنه صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام و الأوقات في الشرف و الحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة.

و أما وجوب القضاء فأما الصيام المفروض: فإن كان الصوم متتابعا كصوم الكفارة و المنذور متتابعا فعليه الاستقبال لفوات الشرائط و هو التتابع، و لو لم يكن متتابعا كصوم قضاء رمضان و النذر المطلق عن الوقت و النذر في وقت بعينه فحكمه أن لا يعتد به عما عليه و يلحق بالعدم، و عليه ما كان قبل ذلك في قضاء رمضان و النذر المطلق و في المنذور في وقت بعينه، عليه قضاء ما فسد.

و أما صوم التطوع: فعليه قضاؤه عندنا.‘‘

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144203200917

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں