بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

غیر محرم عورت سے بات کرنا کس حد تک جائز ہے؟


سوال

غیر محرم لڑکی سے بذریعہ چیٹنگ بات کرنا کیسا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ ضرورت کی حد تک اجازت ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ ضرورت کی حد کیا ہے؟ کیا چیزیں ضرورت میں شمار ہوسکتی ہیں؟ اس سلسلے میں کوئی اصولی قاعدہ اگر ہو تو وہ بھی  بتلادیجیے!

جواب

مرد کے لیے نامحرم عورت سے بلاضرروت گفتگو، ہنسی مذاق اور بے تکلفی کرنا جائز نہیں، نیز یہ عمل فتنہ کا موجب ہے، لہٰذا جہاں ضرورت ہو وہاں بھی پردے کے اہتمام کے ساتھ صرف بقدرِ ضرورت گفتگو کی جائے، اور جانبین سے لہجے سنجیدہ رہیں، خصوصًا عورت اپنے لہجے میں نرمی نہ لائے۔

ضرورت کا لفظ "ضرر" سے  ہے، اور ضرر نقصان کو کہتے ہیں، شرعاً اس کا اطلاق جانی اور مالی دونوں نقصانات پر ہوتاہے، یعنی اگر وہ کام نہ کیا جائے تو جانی یا مالی نقصان کا واقعی خطرہ ہو۔ نیز بعض اہل علم کی تصریحات کے مطابق ضرورت میں وہ صورت شامل ہے جہاں دینی یا دنیاوی مصالح اس پر موقوف ہوں؛ لہذا جہاں ایسی صورت پائی جاتی ہو وہاں نامحرم سے بات کرنے کی اجازت ہوگی، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ حاجتِ شدیدہ کی صورت میں بقدرِ ضرورت گفتگو کی اجازت ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں  ہر شخص جس معاملے میں مبتلی بہ ہو اس کے لحاظ سے خود یہ جان سکتا ہے کہ آیا یہاں ضرورت پائی جارہی ہے یا نہیں۔ اگر ایسی ضرورت پائی جارہی ہو کہ اس گفتگو کے بغیر دینی یا دنیوی مصالح فوت ہوتے ہوں تو وہاں گفتگو کی اجازت ہوگی، اور جہاں ایسی ضرورت نہ ہوں وہاں گفتگو کی اجازت نہیں۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

'' فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة ''. (3/72)

الأشباه والنظائر - (1 / 85 ط:دارالکتب العلمیة بیروت):

"فائدة  قال بعضهم المراتب خمسة ضرورة وحاجة ومنفعة وزينة وفضول فالضرورة بلوغه حدا إن لم يتناوله الممنوع هلك أو قارب وهذا يبيح تناول الحرام والحاجة كالجائع الذي لو لم يجد ما يأكله لم يهلك غير أنه يكون في جهد ومشقة".

شرح تنقيح الفصول - (3 / 45):

"وعرفها الشاطبي بأنها:"مالابد منها في قيام مصالح الدين والدنيا بحيث إذا فُقِدت لم تَجْرِ مصالح الدنيا على استقامةٍ ، بل على فسادٍ وتهارجٍ وفوت حياةٍ ، وفي الأخرى: فوت النجاة والنعيم ، والرجوع بالخسران المبين."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203200460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں