بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غزوہ بدر سے متعلق خواب دیکھنے والی، رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کا نام


سوال

غزو ہ  بدر کے متعلق تین روز قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھو پھی نے خواب دیکھا تھا، ان  پھوپھی کا نام کیا ہے؟

 

جواب

حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ  تعالى عنہا نے غزوه بدر سے تین روز قبل خواب دیکھا تھا، یہ روایت امام حاکم نے "المستدرک" میں ذکر کی ہے، اس کے الفاظ درج  ذیل ہیں: 

مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا: " رَأَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَا يَرَى النَّائِمُ قَبْلَ مَقْدَمِ ضَمْضَمَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ عَلَى قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ رُؤْيَا، فَأَصْبَحَتْ عَاتِكَةُ فَأَعْظَمَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَى أَخِيهَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَخِي، لَقَدْ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا أَفْزَعَتْنِي لَيَدْخُلَنَّ عَلَى قَوْمِكَ مِنْهَا شَرٌّ وَبَلَاءٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَتْ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ فَوَقَفَ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، فَأَرَى النَّاسَ اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ أُرَى بَعِيرَهُ دَخَلَ بِهِ الْمَسْجِدَ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَثَلَ بِهِ بَعِيرُهُ، فَإِذَا هُوَ عَلَى رَأْسِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ مَثُلَ بِهِ عَلَى رَأْسِ أَبِي قُبَيْسٍ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخَذَ صَخْرَةً، فَأَرْسَلَهَا مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، فَأَقْبَلَتْ تَهْوِي حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ، أَرْفَضَتْ فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قَوْمِكَ، وَلَا بَيْتٍ إِلَّا دَخَلَ فِيهِ بَعْضُهَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا فَاكْتُمِيهَا، قَالَتْ: وَأَنْتَ فَاكْتُمْهَا لَئِنْ بَلَغَتْ هَذِهِ قُرَيْشًا لَيُؤْذُونَنَا، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ مِنْ عِنْدِهَا وَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَكَانَ لَهُ صَدِيقًا فَذَكَرَهَا لَهُ وَاسْتَكْتَمَهُ إِيَّاهَا، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، فَتَحَدَّثَ بِهَا فَفَشَا الْحَدِيثُ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَغَادٍ إِلَى الْكَعْبَةِ لِأَطُوفَ بِهَا إِذْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ، عَنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَتَى حَدَّثَتْ هَذِهِ النَّبِيَّةُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى تَنَّبَّأَ نِسَاؤُكُمْ فَسَنَتَرَبَّصُ بِكُمْ هَذِهِ الثَّلَاثَ الَّتِي ذَكَرَتْ عَاتِكَةُ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا فَسَيَكُونُ، وَإِلَّا كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا إِنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ، فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَيْهِ مِنِّي مِنْ كَبِيرٍ إِلَّا أَنِّي أَنْكَرْتُ مَا قَالَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَتْ شَيْئًا وَلَا سَمِعْتُ بِهَذَا، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ لَمْ تَبْقَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا أَتَتْنِي، فَقُلْنَ: أَصَبَرْتُمْ لِهَذَا الْفَاسِقِ الْخَبِيثِ أَنْ يَقَعَ فِي رِجَالِكُمْ، ثُمَّ تَنَاوَلَ النِّسَاءَ وَأَنْتَ تَسْمَعُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ غَيْرَةٌ؟ فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ صَدَقْتُنَّ، وَمَا كَانَ عِنْدِي فِي ذَلِكَ مِنْ غَيْرَةٍ إِلَّا أَنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مَا قَالَ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّهُ، فَقَعَدْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَتَعَرَّضُهُ لَيَقُولَ شَيْئًا فَأُشَاتِمُهُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَمُقْبِلٌ نَحْوَهُ، وَكَانَ رَجُلًا حَدِيدَ الْوَجْهِ، حَدِيدَ الْمَنْظَرِ، حَدِيدَ اللِّسَانِ إِذْ وَلَّى نَحْوَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَشْتَدُّ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: اللَّهُمُ الْعَنْهُ كُلَّ هَذَا فَرَقًا مِنْ أَنْ أُشَاتِمَهُ، وَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِالْأَبْطَحِ قَدْ حَوَّلَ رَحْلَهُ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ، وَجَدَعَ بَعِيرَهُ، يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اللَّطِيمَةُ اللَّطِيمَةُ أَمْوَالُكُمْ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ، وَتِجَارَتُكُمْ قَدْ عَرَضَ لَهَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ، فَالْغَوْثُ، فَشَغَلَهُ ذَلِكَ عَنِّي، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا الْجِهَازُ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَصَابَ قُرَيْشًا مَا أَصَابَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، مِنْ قَتْلِ أَشْرَافِهِمْ، وَأَسَرِّ خِيَارِهِمْ، فَقَالَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:

أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَعَابَكُمْ … بِتَصْدِيقِهَا قَلَّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ

فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا … يُكَذِّبْنَ بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ"

وَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً. 

(المستدرك على الصحيحين، الحاكم أبو عبد الله النيسابوري، دار التأصيل، الطبعة الأولى، ١٤٣٥هـ، كتاب المغازي والسرايا، رقم الحديث: ٤٣٤٩، ٥/١٦٥) 

واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہا غزوہ بدر کے موقع پر مکہ ہی میں موجود تھیں، چنانچہ انہوں نے ضمام بن عمرو الغفاری کے مکہ میں قریش سے ملاقات سے تین دن قبل ایک خواب دیکھا، جسے دیکھ کر وہ گھبرا گئیں،انہوں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی رات گئے میں نے ایک خواب دیکھا جس نے مجھے گھبراھٹ میں مبتلا کردیا، مجھے ڈر ہے کہ تمہارے قوم پر کوئی بڑی مصیبت آنے والی ہے۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ خواب کیا ہے؟ تو وہ فرمانے لگیں کہ میں نے دیکھا كہ اونٹ پرایک سوار آیا ہے، اور وہ ابطح کے مقام پہ کھڑا ہوا اور چیخ چیخ کر اعلان کرنے لگا:اے غدر والوں! اپنے اپنے مرنے کی جگہ پہنچو۔یہ جملہ اس نے تین دفعہ کہا۔لوگوں کا ہجوم اس کے پاس جمع ہوگیا۔پھر وہ بیت اللہ شریف میں پہنچا تو ہجوم بھی اس کے پیچھے بیچھے وہیں گیا۔وہ اونٹ اپنے سوار کو لے کر کعبہ شریف کی چھت پہ جا چڑھا اور وہاں بھی تین دفعہ کہا: اے غدر والوں اپنے مرنے کی جگہ پہنچو۔پھر وہ ابو قیس پہاڑ کی چوٹی پہ جا چڑھا اور وہاں بھی  اسی بات کو اس نے تین دفعہ دہرایا۔پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک چٹان نیچے لڑھکادی۔جب وہ چٹان پہاڑ کے دامن میں پہنچی تو ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، اور کوئی گھر باقی نہ رہا جس میں اس چٹان کا ٹکڑ انہ گیا ہو۔

اس خواب کو سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے قسم یہ خواب تو سچا معلوم ہوتا ہے، اس خواب کا اظہار کسی کے سامنے نہ کرنا۔حضرت  عاتکہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ نے بھی اس کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کرنا، کیونکہ ممکن ہے اس خواب کی بنا پر قریش کے لوگ ہمیں تکلیف پہنچائیں۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت عاتکہ کے پاس سے نکلے تو انہیں کا دوست ولید بن عتبہ مل گیا، حضرت عباس نے اس قصہ کا ذکر اس سے کیا اور تاکید کی کہ اس کا اظہار کسی کا سامنے نہ کرے،ولید نے اس قصہ کو جاکر اپنے باپ کو سنایا، اور یوں بات پھیلتے پھیلتے دور تک جا پہنچی۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دوسری صبح طواف کے لئے حرم میں گیا تو وہاں قریش کے لوگ جن میں ابو جہل بھی موجود تھا، حضرت عاتکہ کے خواب کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

ابو جہل کہنے لگا : اے عبد المطلب کی اولاد! اس نبیہ نے تم سے یہ بات کب کہی؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کون سی بات؟ابو جہل نے جواب دیا: عاتکہ بنت عبد المطب کا خواب، کیا تمہارا اپنے مردوں کو نبی بنانے سے جی نہیں بھرا کہ اب عورتوں کو بھی نبی بنانے لگے۔پس ہم لوگ اس کی تعبیر کا تین دن تک انتظار کریں گے، اگر خواب سچا ہوا تو پورا ہوجائے گا، اور اگر جھوٹ ہوا تو ڈھنڈورا پٹوادیں کے کہ تمہارا گھرانا پورے عرب میں سب سے جھوٹا ہے۔

حضرت عباس فرمانے لگے کہ میں نے کہہ دیا مجھے تو کچھ نہیں معلوم اور عاتکہ رضی اللہ عنہ نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا۔شام کو عبد المطلب کی اولاد میں سے کوئی خاتون باقی نہ رہی جس نے میرے پاس آکر گلہ نہ کیا ہو کہ آخر آپ نے یہ کیسے سہہ لیا کہ وہ گستاخ بدتمیز ابو جہل  ہمارے مردوں کو برا بھلا کہتے کہتے ہم عورتوں کو بھی طعنے دینے لگا، اور آپ کو ذرا بھی غیرت نہ آئی۔

حضرت عباس فرمانے لگے: اللہ کی قسم بات تو ٹھیک ہے ، لیکن میں نے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا، اب اگر اس نے ایسی بات کہی تو میں اس سے نمٹ لوں گا۔پس میں تیسرے روز جا بیٹھا تاکہ اب کی بار ابو جہل سے بھڑ جاؤں اور اس کی خبر لوں۔لیکن جوں ہی میں اس کے سامنے آیا تو وہ تیزی سے جھپٹتا ہوا دروازے سے نکل گیا۔وہ ایک دبلا پتلا، منہ پھٹ اور تیز نظر آدمی تھا۔میں نے سوچا کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر،یہ مجھے سے ڈر کر بھاگا ہے کہ میں اس کی خبر لوں گا۔اس نے اچانک ایک ایسا اعلان سن لیا جو اس وقت میں نہ سن سکا۔یہ ضمضم بن عمرو کی چیخ وپکار تھی جو اس نے سنی۔وہ مقام ابطح پر اپنی اونٹ کے ساتھ کھڑا تھا، اس کا گریبان چاک تھا، اور وہ چلاّ رہا تھا: ابو سفیان تمہارے مال ودولت کے جو خزانے لا رہا ہے انہیں بچالو، محمد(صلي اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھی قافلے کی گھات میں بیٹھے ہیں۔

اس اعلان سے کھلبلی مچ گئی جس کی بنا پر ابو جہل والی بات مجھ سے بھول گئی۔پس اس کے بعد واقعہ بدر پیش آیا، جس میں بہت سے سرداران قریش جہنم واصل ہوئے، اور بہت سے قید ہوئے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں