بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غزوۂ خندق کی تفصیل


سوال

غزوۂ خندق کی تفصیل بتا دیجیے؟

جواب

1۔راجح قول کے مطابق غزوۂ خندق سن 5 ہجری میں واقع ہوا۔

2۔غزوۂ خندق کا دوسرا نام غزوۂ احزاب ہے، "احزاب کا معنیٰ ہے:بہت سے لشکر"، اس جنگ میں کئی قبائل:بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو غطفان اور مشرکینِ  مکہ سب متحد ہوکر آئے تھے، چوں کہ اس جنگ میں کفار کے کئی لشکر متحد ہوکر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے آئے تھے، اس وجہ سے اس کو "غزوۂ احزاب" کہا جاتا ہے، اور مسلمانوں نے اس جنگ میں خندق کھود کر کفار کے مقابلے کی حکمت عملی اختیار کی تھی، اس مناسبت سے اس کو "غزوۂ خندق" کہا جاتا ہے۔

3۔اس غزوہ میں کفار کی تعداد دس ہزار اور مسلمانوں کی تعداد تین ہزار تھی، تقریباً ایک مہینے تک یہ جنگی محاصرہ جاری رہا۔

4۔اس جنگ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ بنو نضیر کو جب حضور انور  ﷺنے مدینہ منورہ سے جلا وطن کر دیا تو وہ خیبر میں جا کر بھی شرارتوں سے اور اپنی یہود والی بےہودگیوں سے باز نہ آئے، ان کے بڑے مکہ معظمہ پہنچے اور قریش مکہ سے کہا کہ آؤ ہم تم مل کر داعئی اسلام ﷺسے جنگ کریں اور ان کو، ان کے کام کو اور ان کے ساتھیوں کو، سب کو ختم کر دیں، قریش کو آمادہ کرنے کے بعد  یہ لوگ یہودیوں کے سردار قبیلہ بنی غطفان کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ دیکھو محمدﷺسے جنگ کرنی ہے، قریش مکہ نے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا ہے، تم لوگ بھی ہمارے ساتھ جنگ میں شریک ہو جاؤ؛ تاکہ اسلام اور مسلمانوں کا قصہ ہی ختم ہو جائے۔ ان کے علاوہ دیگر قبائل کی جماعتیں بھی جنگ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں۔

رسول اللہ ﷺ کو ان لوگوں کے ارادۂ بد کی اطلاع ملی تو آپ علیہ السلام نے حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ مدینہ منورہ کے باہر خندق کھود لی جائے، انہوں نے بتایا کہ اہلِ فارس  دشمن سے محفوظ رہنے کے لیے یہ تدبیر اختیار کرتے ہیں، چنانچہ خندق کھودی گئی جو مدینہ منورہ کے اس جانب تھی جدھر سے دشمنوں کے آنے کا اندیشہ تھا، اس خندق کی کھدائی میں سید دو عالمﷺ خود شریک ہوئے، سردی کا موسم تھا اور ہر طرف سے خوف ہی خوف تھا،نبی علیہ السلام نے خود ہی خط کھینچ کر خندق کی حدود مقرر فرمائی اور ہر دس آدمیوں کو چالیس ہاتھ کا رقبہ کھودنے کے لیے دیا، جب دشمنوں کی جماعتیں مدینہ طیبہ کے قریب پہنچی،تو انہوں نے خندق کھودی ہوئی پائی اور کہنے لگے یہ تو عجیب دفاعی تدبیر ہے جسے اہلِ عرب نہیں جانتے تھے، وہ لوگ خندق کے اس طرف رہ گئے اور رسول اللہ ﷺخندق کے اس طرف تین ہزار مسلمانوں کے ساتھ جبلِ سلع کی طرف پشت کر کے قیام پذیر ہو گئے اور عورتوں اور بچوں کو حفاظت کی جگہوں یعنی قلعوں میں محفوظ فرما دیا۔

دشمن نے خندق کو پار کرنے کی ہمت تو نہ کی، البتہ کچھ تیر اندازی ہوتی رہی، مشرکین میں سے چند آدمی اپنے گھوڑے لے کر خندق میں اتر گئے، جنہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اس کے بعد دشمن نے خندق پار کرنے کی ہمت نہیں کی، اسی غزوہ کے موقع پر مکمل طور پر جنگی مشغولیت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی نمازیں بھی قضا ہو گئیں،  جن کو آپ علیہ السلام نے رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد قضا کیا، اس طرح مسلمانوں کو نمازوں کی قضا کرنے کے کا طریقہ بتلایا گیا،آپ ﷺ جنگ کے لیے آنے والی جماعتوں کی شکست کے بارے میں مسلسل دعائیں کرتے رہے،  چنانچہ حضرت عبداللہ ابن ابی اوفیٰ  رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت میں  ہے  کہ آپ علیہ السلام یہ دعا کرتے رہے: اے اللہ! کتاب کے نازل فرمانے والے، جلدی حساب لینے والے، ان جماعتوں کو شکست دے اور ان کو ڈگمگا دے۔ اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائی اور سخت تیز ہوا بھیج دی جس سے دشمنوں کے خیمے اکھڑ گئے، چولہے بجھ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، ہوا تیز بھی تھی اور سخت سرد بھی، دشمنوں کی جماعتیں اس سے متاثر ہو کر بھاگ کھڑی ہوئیں،اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہوا کے ذریعے دشمنانِ اسلام کو شکست دے کر واپس کر دیا۔

5۔اس غزوہ میں مشرکین میں سے تین آدمی قتل ہوئے:نوفل بن عبد اللہ، عمرو بن عبدِود اور منیۃ بن عبید۔

مسلمانوں میں سے چھ صحابہ  شہید ہوئے:حضرت سعد بن معاذ، حضرت انس بن اویس، حضرت عبداللہ بن سہل، حضرت طفیل بن نعمان، حضرت ثعلبہ بن عنمہ اور حضرت کعب بن زید رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اس غزوہ کے بارے میں مزید تفصیلی مطالعے کے لیے آپ درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں:

1۔سیرتِ مصطفیٰ، از حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندہلوی رحمہ اللہ۔

2۔سیرتِ سرورِ کونین ﷺ، از حضرت مولانا محمد عاشق الہٰی بلند شہری رحمہ اللہ۔

فتح الباری میں ہے:

"وهي الأحزاب يعني أن لها اسمين، وهو كما قال، والأحزاب جمع حزب أي طائفة، فأما تسميتها الخندق فلأجل الخندق الذي حفر حول المدينة بأمر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان الذي أشار بذلك سلمان فيما ذكر أصحاب المغازي منهم أبو معشر قال قال سلمان للنبي صلى الله عليه وسلم: إنا كنا بفارس إذا حوصرنا، خندقنا علينا، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بحفر الخندق حول المدينة، وعمل فيه بنفسه ترغيبا للمسلمين، فسارعوا إلى عمله حتى فرغوا منه، وجاء المشركون فحاصروهم. وأما تسميتها الأحزاب؛ فلاجتماع طوائف من المشركين على حرب المسلمين، وهم قريش وغطفان واليهود ومن تبعهم، وقد أنزل الله تعالى في هذه القصة صدر سورة الأحزاب، وذكر موسى بن عقبة في المغازي قال خرج حيي بن أخطب بعد قتل بني النضير إلى مكة يحرض قريشا على حرب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخرج كنانة بن الربيع بن أبي الحقيق يسعى في بني غطفان ويحضهم على قتال رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن لهم نصف ثمر خيبر، فأجابه عيينة بن حصن بن حذيفة بن بدر الفزاري إلى ذلك، وكتبوا إلى حلفائهم من بني أسد فأقبل إليهم طلحة بن خويلد فيمن أطاعه، وخرج أبو سفيان بن حرب بقريش، فنزلوا بمر الظهران، فجاءهم من أجابهم من بني سليم مددا لهم، فصاروا في جمع عظيم فهم الذين سماهم الله تعالى الأحزاب، وذكر بن إسحاق بأسانيده أن عدتهم عشرة آلاف، قال: وكان المسلمون ثلاثة آلاف، وقيل كان المشركون أربعة آلاف والمسلمون نحو الألف، وذكر موسى بن عقبة أن مدة الحصار كانت عشرين يوما ولم يكن بينهم قتال إلا مراماة بالنبل والحجارة، وأصيب منها سعد بن معاذ بسهم فكان سبب موته كما سيأتي، وذكر أهل المغازي سبب رحيلهم وأن نعيم بن مسعود الأشجعي ألقى بينهم الفتنة فاختلفوا، وذلك بأمر النبي صلى الله عليه وسلم له بذلك، ثم أرسل الله عليهم الريح، فتفرقوا وكفى الله المؤمنين القتال. قوله قال موسى بن عقبة كانت في شوال سنة أربع هكذا رويناه في مغازيه قلت وتابع موسى على ذلك مالك وأخرجه أحمد عن موسى بن داود عنه وقال بن إسحاق كانت في شوال سنة خمس وبذلك جزم غيره من أهل المغازي."

(المغازي، باب غزوة الخندق، ج:٧، ص:٣٩٢، ط:دار المعرفة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں