بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

گاڑی چلانے کے لیے دیے کر اس کے نفع و نقصان میں شریک ہونے کا حکم


سوال

ایک آدمی نے دوسرے آدمی کوگاڑی کرین ڈیمپر وغیرہ چلانے پر دیا، اور  معاملہ اس طرح طے کیا کہ جتنا آپ گاڑی پر کمائیں گے وہ آدھا آدھا ہوگا اور گاڑی کی خرابی کا خرچہ بھی آدھا آدھا ہوگا ، یعنی روزانہ یا ماہانہ پیٹرول یا ڈیزل اور خرابی وغیرہ کا جتنا بھی خرچہ ہوتاہے وہ منہاکرکے باقی جتنے بچ جائے وہ آدھا آدھا تقسیم کریں گے۔

  اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یاناجائز؟ اگر کسی نے کر رکھا ہے وہ کیا کرے ؟ جس نےکیاہے اور گزشتہ چند ماہ سے نفع ونقصان کے حساب جو رقم لی ہے وہ کس کاحق ہے مالک کا یاچلانے والے ڈرائیور کا؟ اگر ناجائز ہے تو جواز کی کیا صورت ہوگی ؟

نوٹ :گاڑی کو چلانے والے ڈرائیور کو ملکیتا نہیں دیتے ہے صرف ڈرائیوری پر دیتے ہیں ۔

جواب

واضح رہے اپنی گاڑی کسی کو عوض کے بدلے چلانے کے لیے دینا اجارہ کہلاتا ہے، اور اجارہ  میں اجرت مجہول یا اجیر کے عمل سے حاصل شدہ نفع سے اجرت دینا  اجارہ کو فاسد کردیتی ہے، نیز  گاڑی چلانے کے لیے دے کر نفع و نقصان میں برابر کے شریک ہونا  بھی درست نہیں ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اپنی  گاڑی   دوسرے کو دینا اور نفع ونقصان میں برابر شریک ہو نا   درست   نہیں ہے، اور جس نے یہ معاملہ کیا ہے اس پر   اس  معاملہ  کو فسخ (ختم) کرنا ضروری ہے۔اور گزشتہ  چند ماہ میں جو نفع ہوا ہے وہ گاڑی کے مالک کا حق ہے، اور ڈرئیور کو اپنے عمل کی اجرت مثل (یعنی اس جیسے کام کرنے کی جتنی اجرت بنتی ہے) ملے گی۔

جواز کی یہ  صورت اختیار کی جاسکتی ہے  کہ نفع نقصان سب گاڑی کے مالک کا ہو اور  گاڑی چلانے  والے کے لیے   متعین  اجرت مقرر کر لی جائے ،   ڈرائیور پر  نقصان  کی شرط لگانے سے اجارہ  فاسد ہوجائے گا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد، أشباه.

(قوله: ومرمة الدار أو مغارمها) قال في البحر: وفي الخلاصة معزياً إلى الأصل: لو استأجر داراً على أن يعمرها ويعطي نوائبها تفسد؛ لأنه شرط مخالف لمقتضى العقد اهـ. فعلم بهذا أن ما يقع في زماننا من إجارة أرض الوقف بأجرة معلومة على أن المغارم وكلفة الكاشف على المستأجر أو على أن الجرف على المستأجر فاسد كما لايخفى اهـ. أقول: وهو الواقع في زماننا، ولكن تارةً يكتب في الحجة بصريح الشرط فيقول الكاتب: على أن ما ينوب المأجور من النوائب ونحوها كالدك وكري الأنهار على المستأجر، وتارةً يقول: وتوافقا على أن ما ينوب إلخ. والظاهر أن الكل مفسد؛ لأنه معروف بينهم وإن لم يذكر، والمعروف كالمشروط، تأمل."

(كتاب الإجارة، ج:6، ص:46، ط:سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما شرائط الصحة فكثيرة....منها أن يكون  رأس المال دراهم أو دنانير عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى وعند محمد رحمه الله تعالى أو فلوسا رائجة حتى إذا كان رأس مال المضاربة ما سوى الدراهم والدنانير والفلوس الرائجة لم تجز المضاربة إجماعا.... ولا تجوز بالذهب والفضة إذا لم تكن مضروبة في رواية الأصل."

(كتاب المضاربة،الباب الاول في تفسيرها وشرائطها،وركنها، ج:4، ص:286، ط:دار الفكر)

المبسوط للسرخسي   میں ہے:

"واشتراط تطيين الدار ومرمتها أو غلق باب عليها، أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر مفسد للإجارة؛ لأنه مجهول، فقد شرط الأجر لنفسه على المستأجر."

(كتاب الإجارة، ج:16، ص:34، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"ولو استأجر داراً بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة؛ لأن المشروط يصير أجرةً وهو مجهول فتصير الأجرة مجهولةً، وكذا إذا آجر أرضاً وشرط كري نهرها أو حفر بئرها أو ضرب مسناة عليها؛ لأن ذلك كله على المؤاجر، فإذا شرط على المستأجر فقد جعله أجرةً وهو مجهول فصارت الأجرة مجهولةً."

(كتاب الإجارة، ج:4، ص:194 ،  ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان، وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز، (وحكم الأول)  وهو الفاسد (وجوب أجر المثل بالاستعمال) لو المسمى معلوماً، ابن كمال (بخلاف الثاني) وهو الباطل فإنه لا أجر فيه بالاستعمال حقائق (ولاتملك المنافع بالإجارة الفاسدة بالقبض، بخلاف البيع الفاسد) فإن المبيع يملك فيه بالقبض، بخلاف فاسد الإجارة، حتى لو قبضها المستأجر ليس له أن يؤجرها، ولو آجرها وجب أجر المثل ولايكون غاصبًا، وللأول نقض الثانية، بحر معزياً للخلاصة وفي الأشباه: المستأجر فاسداً لو آجر صحيحاً جاز وسيجيء."

(كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:56، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508102456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں