بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

گھر والوں کے گناہوں پر اصرار کرنے کی وجہ سے ان سے قطع تعلق کرنا


سوال

 ایک شخص گھر کے افرادسے ان کے دین پر عمل نہ کرنے اور خلافِ شریعت اُمور بجالا لانے اور اس پر مصر رہنے کی وجہ سے گفتگو اور بات چیت بند کیے ہوئے ہے، اور اب تقریبًا ‏سات آٹھ مہینہ ہوچکے ہیں، تو عرض یہ ہے کہ یہ شخص اس حدیث کی رو سے جس حدیث کے اندر بیان کیا گیا کہ تین دن سے زیادہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے بات چیت اور گفتگو بند نہ کرے،  گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ نیز یہ شخص کہتا ہے کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دینی معاملے کی وجہ سے ازواجِ مطہرات سے ایک مہینہ بات چیت نہیں کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھانجے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے بلال سے ایک مہینہ بات نہیں کی اور پورے مدینہ والوں نے  پچاس یوم تک تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے بات نہیں کی، ان کے ایک دینی امر (غزوہ میں شریک نہ ہونے) کے نہ بجالا نے کی وجہ سے۔

عر ض یہ ہے کہ اس سے استدلا ل درست ہے یا نہیں؟ اخیر میں یہ بھی بتلائیں کہ دین کی وجہ سے گفتگو اور بات چیت بند کرنا درست ہے یا نہیں؟ گفتگو بند کرنا صحیح ہے یا نہیں تو کیوں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص  واقعتًا اپنے گھر  کے افراد سے گناہوں پر اصرار اور خلافِ شریعت امور بجالانے کی وجہ سے بات چیت بند کیے ہوئے  ہے تو یہ قطع تعلق کی وعید میں شامل نہیں ہوگا، اس لیے  کہ دینی امور میں اصلاح کی غرض سے قطع تعلق کرنا ثابت ہے۔

لیکن مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ حکمت، بصیرت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے گھر والوں کی اصلاح کے لیے مختلف طریقوں سے کوشش کرتا رہے، اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ قطع تعلق سے ان کی اصلاح کی امید نہیں ہے، بلکہ مزید تعلق خراب ہورہے ہیں  تو یہ شخص اپنے گھروالوں سے تعلق بحال کرکے ان  کی اصلاح کی کوشش کرے، اور اگر یہ امید ہو  ان سے بات چیت بند کرنے سے ان کی اصلاح ہوسکتی ہے تو  وہ ذریعہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ   مقصد صرف قطع تعلق نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مقصد بہر صورت گھر والوں کو راہِ راست پر لانا ہو، اور ان کو گناہوں سے بچانا ہو، اور ان کی آخرت بنانے کی فکر ہو، اب یہ مقصد اگر  تعلق قائم رکھ کر حاصل کیا جاسکتا ہے اس کو ترجیح دینی چاہیے، اور اگر  تعلق قائم ہونے سے نقصان ہو تو پھر دوسری صورت بھی اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

اگر کوئی شخص یا کچھ لوگ کبیرہ گناہوں میں مبتلا ہوں اور سمجھانے کے باوجود باز نہ آئیں اور بات چیت بند کرنے سے بھی ان پر فرق نہ پڑتا ہو اور تعلق قائم رکھنے سے بھی ان پر فرق نہ پڑتا ہو، تو ایسے افراد کی ان مجالس سے لاتعلقی ضروری ہے جن میں گناہ کا امکان ہو، اور جہاں گناہ کا امکان نہ ہو وہاں اصلاح کی نیت سے تعلق رکھ کر کوشش بھی کرتا رہے اور دل سے ان اعمال سے بے زار بھی رہے، تاکہ قیامت کے روز ان کے ساتھ شمار نہ ہو، اور نہی عن المنکر اور اصلاح کے فریضے کا تارک بھی نہ ہو۔

اسی طرح  اگر کوئی شخص سمجھانے پر بھی اصلاح نہ کرے اور تعلق رکھنے والا دینی مقتدا ہو تو وہ لوگوں کی تنبیہ، عبرت اور تربیت کے لیے بھی قطع تعلق کرسکتاہے۔

دین اور اصلاح کی خاطر تعلق قطع کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، اور رسول اللہ ﷺ  نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قطع تعلق کا جو حکم دیا تھا اس کی بہت سی حکمتیں علماءِ کرام نے بیان کی ہیں، من جملہ ان کے ایک وجہ اصلاح اور ان کی توبہ کی تکمیل بھی ہے۔ 

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ولا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرضهذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.»

۔۔۔  قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولايجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. وفي حاشية السيوطي على الموطأ: قال ابن عبد البر: هذا مخصوص بحديث كعب بن مالك ورفيقيه، حيث أمر صلى الله عليه وسلم أصحابه بهجرهم، يعني زيادة على ثلاث إلى أن بلغ  خمسين يومًا. قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق".

(8/ 3146،کتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، الفصل الأول، ط: دارالفکر)

       عارضۃ الاحوذی میں ہے:

"وأما إن كانت الهجرة لأمر أنكر عليه من الدين كمعصية فعلها أو بدعة اعتقدها فليهجرهحتى  ينزع عن فعله وعقده ، فقد أذن النبي صلي الله عليه وسلم فى هجران الثلاثة الذين خلفوا خمسين  ليلةً حتى صحّت توبتهم عند الله، فأعلمه فعاد إليهم".

(عارضۃ الأحوذي لابن العربي المالکي (8/116) أبواب البر والصلة، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144203200025

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں