بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گھر سے دکان تک جو کرایہ ہوتاہے وہ ذاتی رقم سے ادا ہوگا یا مشترکہ کاروبار کے منافع سے؟


سوال

 ہم دوبندوں  نے پارٹنرشپ میں کاروبار شروع کیا، ہم دونوں کی الگ الگ دکانیں ہیں، مہینے کے آخر میں دونوں د کانوں کا پرافٹ ایک جگہ جمع کر لیاجاتاہے برابر دونوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، سوال یہ ہے کے گھر سے دکان آنے جانے کا کرایہ ہمارا اپنا ذاتی ہوگا یا کاروبار سے نکلے گا؟کیونکہ ہم آنا جانا کاروبار کے لیے کر رہے ہیں، ایک پارٹنر کے پاس اپنی ذاتی سواری ہے اور وہ اس میں آنا جانا کرتا ہے اور اس کا گھر بھی دکان کے قریب ہےاور دوسرا پارٹنر، اس کے پاس کوئی سواری نہیں ہے اور وہ بائیکیا میں آنا جانا کرتا ہے اور اس کے روز کے تین سو روپے خرچ ہوتے ہیں اور مہینے کے 9000 روپے، اور اس کی دکان گھر سے کافی دور ہے، جبکہ جس کے پاس اپنی ذاتی سواری ہے اگر وہ پٹرول کا خرچہ بھی لگائے تو اس کا تقریبا تین ہزار روپے خرچہ ہوگا۔جس کے پاس ابھی ذاتی سواری ہے وہ بولتا ہے کہ میں آنے جانا کا کرایہ پٹرول کے حساب سے نہیں بائیکیا کے حساب سے لوں گا اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دکان تک آنے جانے کے کرایہ کے جو اخراجات ہیں، وہ مشترکہ کاروبار سے نہیں لیے جائیں گے،  بلکہ ہر ایک شریک اپنی ذاتی رقم سےکرایہ  ادا کرےگا، البتہ اگر فریقین ایک مخصوص اور متعین رقم کرایہ کے لیے مقرر کر کے مشترکہ رقم سے لینے پر اتفاق کر لیں تو دونوں کے لئے متعین رقم لینا جائز ہوگا کسی ایک فریق کے لیے لینا جائز نہیں ہوگا۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وإذا سافر) ولو يوما (‌فطعامه ‌وشرابه ‌وكسوته وركوبه) بفتح الراء ما يركب ولو بكراء (وكل ما يحتاجه عادة) أي في عادة التجار بالمعروف (في مالها) لو صحيحة لا فاسدة؛ لأنه أجير، فلا نفقة له كمستبضع ووكيل وشريك كافي وفي الأخير خلاف(وإن عمل في المصر) سواء ولد فيه أو اتخذه دارا (فنفقته في ماله)

(قوله: ولو يوما) ؛ لأن العلة في وجوب النفقة حبس نفسه لأجلها، فعلم أنه ليس المراد بالسفر الشرعي بل المراد أن لا يمكنه المبيت في منزله، فإن أمكن أنه يعود إليه في ليلة فهو كالمصر لا نفقة له بحر (قوله ولو بكراء) بفتح الراء ومدها وكسر الهمزة بعدها (قوله: لأنه أجير) أي في الفاسدة (قوله خلاف) فإنه صرح في النهاية بوجوبها في مال الشركة منح، وجعله في شرح المجمع رواية عن محمد،وفي الحامدية في كتاب الشركة عن الرملي على المنح أقول: ذكر في التتارخانية عن الخانية قال محمد هذا استحسانا. أي وجوب نفقته في مال الشركة وحيث علمت أنه الاستحسان فالعمل عليه لما علمت أن العمل على الاستحسان... قال في البحر: فلو أخذ مالا بالكوفة وهو من أهل البصرة، وكان قدم الكوفة مسافرا، فلا نفقة له في المال ما دام في الكوفة فإذا خرج منها مسافرا فله النفقة، حتى يأتي البصرة؛ لأن خروجه لأجل المال، ولا ينفق من المال ما دام بالبصرة؛ لأن البصرة وطن أصلي له فكانت إقامته فيه لأجل الوطن لا لأجل المال، فإذا خرج من البصرة له أن ينفق من المال إلى أن يأتي الكوفة؛ لأن خروجه من البصرة لأجل المال، وله أن ينفق أيضا ما أقام بالكوفة حتى يعود إلى البصرة؛ لأن وطنه بالكوفة كان وطن إقامة، وأنه يبطل بالسفر فإذا عاد إليها وليس له بها وطن كانت إقامته فيها لأجل المال كذا في البدائع والمحيط والفتاوى الظهيرية."

(كتاب المضاربة، ج:5،ص:657، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102382

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں