بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر میں باہر سے گیند آجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟


سوال

اکثر باہر گلی میں کھیلتے بچوں کی بال وغیرہ گھر میں آجاتی ہے،  اگر بر وقت بچے مطالبہ نہ کریں تو اکثر وہ بال ادھر ادھر ہو جاتی ہے، یا اگر دس بچے کھیل رہے ہوں تو بعد میں کوئی ایک بچہ آکر لے جاتا ہے، چاہے وہ اس کی ملکیت ہو یا نہ ہو۔سوال یہ ہے کہ اگر کسی بال کے لیے بچے نہ آئیں تو  اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر ایک بچے کی بال دوسرا اپنی بتا کر لے جائے تو اس کا گناہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

1۔ صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ بال واپس کرنا لازم ہے، لہذا گھر میں بال آنے کی صورت میں جیسے نگاہ پڑے  اسے رکھ لیں، اور مطالبہ پر واپس کردیں۔

2۔ بچوں کو آگاہ کردیں کہ کھیل کے دوران بال آنے کی صورت میں جو  بچہ بھی لینے آئے گا اسے واپس کردی جائے گی، پھر  کھیلنے والے بچوں میں سے ہی کوئی آکر لے جائے تو گھر والا بری الذمہ ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم

مزید فائدے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

عوامی راستوں میں کرکٹ کھیلنا


فتوی نمبر : 144111200090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں