بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر میں انفرادی تراویح اور وتر پڑھنے والا قراء ت جہری کرے یا سری ؟


سوال

گھر پر تراویح پڑھنے والا قراء ت جہری کرےگا یا سری؟ اسی طرح وتر کی قرات کا کیا حکم ہو گا؟

جواب

جو شخص گھر  میں انفرادی طور پر تراویح یا وتر ادا کررہا ہو اس کے لیے اجازت ہے کہ خواہ  جہری قراء ت کرے یا سری ۔ البتہ جہری قراءت افضل ہے۔  جہری قراءت میں آواز اتنی رکھی جائے کہ کسی بیمار یا سونے والے کو تکلیف نہ ہو۔ البتہ مرد کو چاہیے کہ وہ بلاعذر گھر میں انفرادی طور پر تراویح نہ پڑھے، بلکہ جماعت کے ساتھ مسجد میں تراویح کی نماز ادا کرے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3 / 338):

"وقد أفاد أن المتنفل بالنهار يجب عليه الإخفاء مطلقًا، و المتنفل بالليل مخير بين الجهر والإخفاء إن كان منفردا".

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (2 / 122):

"قال رحمه الله: (وخير المنفرد فيما يجهر كمتنفل بالليل) أي إن شاء جهر وهو أفضل".

حاشية على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - (1 / 170):

"(قوله:كمتنفل بالليل) والجهر أفضل ما لم يؤذ نائمًا ونحوه كمريض و من ينظر في العلم، قاله السيد ناقلاً عن خط والده، (قوله: ولايوقظ الوسنان) الوسنان النائم". فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144109202417

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں