بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1441ھ- 04 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

گھر میں ایک بچے اور خواتین کے ساتھ جماعت کرانے کی صورت میں صف بندی کی ترتیب


سوال

آج کل گھر میں اگر نماز باجماعت پڑھیں تو صفوں کی ترتیب کیا ہوگی، اگر سربراہ نماز پڑھائے اور ایک بچہ ہو باقی خواتین ہوں تو کیا ترتیب ہوگی؟ بچہ سمجھ دار ہو یا سمجھ دار نہ ہو دونوں اعتبار سے حکم بتادیجیے!

جواب

اولاً تو حتی الامکان کوشش کی جائے کہ مسجد کی جماعت ترک نہ کی جائے، لیکن اگر  کسی علاقے  میں باجماعت نماز پر پابندی ہو یا اس پورے علاقے میں وبا پھیل گئی ہو  جس کی  وجہ سے مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی صورت نہ ہو  یا کسی اور  شرعی عذر کی وجہ سے کی نماز رہ جائے  تو  شوہر اپنی  بیوی اور نابالغ بچوں کو نماز جماعت سے پڑھانا چاہے تو پڑھا سکتا ہے، اور  ایسی صورت میں  انفرادی نماز پڑھنے کے مقابلہ میں گھر میں جماعت کے ساتھ نماز پڑ ھنا افضل ہے۔

گھر میں نماز کی جماعت میں  صف بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ مرد خود آگے کھڑا ہوجائے،  پہلی  صف میں بچے کھڑے ہوں اوراس سے پچھلی صف میں بیوی کھڑی ہو۔  اور اگر ایک بچہ ہو تو وہ مرد کے دائیں طرف کھڑا ہو اور باقی خواتین پچھلی صف میں کھڑی ہوں۔

نیز گھر  میں جماعت کرواتے وقت اذان و اقامت دینا ضروری نہیں ہے،  بلکہ محلہ کی اذان کافی ہے، البتہ افضل طریقہ یہ ہے کہ گھر میں بھی اذان اور اقامت دونوں یا کم از کم اقامت کے ساتھ ہی جماعت کروائی جائے۔ اقامت اور امامت شوہر کو ہی کرنی چاہیے، اور اذان دینی ہو تو بھی شوہر یا سمجھ دار بچہ دے۔

سنن النسائي (2/ 104):
"أن قزعة مولى لعبد القيس أخبره أنه سمع عكرمة قال: قال ابن عباس: «صليت إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وعائشة خلفنا تصلي معنا، وأنا إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم أصلي معه»".

ترجمہ: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے برابر میں نماز پڑھی اور ہمارے پیچھے حضرت عائشہ صدیقہ تھیں، وہ بھی ہمارے ہم راہ نماز میں شریک تھیں، اور میں نبی کریم ﷺ کے پہلو میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہاتھا۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 390):

"مطلب حال فشو الطاعون هل للصحيح حكم المريض

(قوله: ومثله حال فشو الطاعون) نقل في الفتح عن الشافعية: أنه في حكم المرض، وقال: ولم أره لمشايخنا اهـ وقواعد الحنفية تقتضي أنه كالصحيح. قال الحافظ العسقلاني في كتابه بذل الماعون: وهو الذي ذكره لي جماعة من علمائهم.

وفي الأشباه: غايته أن يكون كمن في صف القتال فلايكون فارًّا اهـ وهو الصحيح عند مالك، كما في الدر المنتقى.

قال في الشرنبلالية: وليس مسلماً إذ لا مماثلة بين من هو مع قوم يدفعون عنه في الصف وبين من هو مع قوم هم مثله ليس لهم قوة الدفع عن أحد حال فشو الطاعون. اهـ.

قلت: إذا دخل الطاعون محلةً أو دارًا يغلب على أهلها خوف الهلاك كما في حال التحام القتال، بخلاف المحلة أو الدار التي لم يدخلها فينبغي الجري على هذا التفصيل، لما علمت من أن العبرة لغلبة خوف الهلاك، ثم لايخفى أن هذا كله فيمن لم يطعن".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 553):
"ولنا «أنه عليه الصلاة والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى».

(وكره تركهما) معًا (لمسافر) ولو منفردًا (وكذا تركها) لا تركه لحضور الرفقة (بخلاف مصل) ولو بجماعة (وفي بيته بمصر) أو قرية لها مسجد؛ فلايكره تركهما إذ أذان الحي يكفيه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 395):
"(قوله: في بيته) أي فيما يتعلق بالبلد من الدار والكرم وغيرهما، قهستاني. وفي التفاريق: وإن كان في كرم أو ضيعة يكتفي بأذان القرية أو البلدة إن كان قريبًا وإلا فلا. وحد القرب أن يبلغ الأذان إليه منها اهـ إسماعيل. والظاهر أنه لايشترط سماعه بالفعل، تأمل.
(قوله: لها مسجد) أي فيه أذان وإقامة، وإلا فحكمه كالمسافر صدر الشريعة.
(قوله: إذ أذان الحي يكفيه) لأن أذان المحلة وإقامتها كأذانه وإقامته؛ لأن المؤذن نائب أهل المصر كلهم كما يشير إليه ابن مسعود حين صلى بعلقمة والأسود بغير أذان ولا إقامة، حيث قال: أذان الحي يكفينا، وممن رواه سبط ابن الجوزي فتح: أي فيكون قد صلى بهما حكما، بخلاف المسافر فإنه صلى بدونهما حقيقة وحكما؛ لأن المكان الذي هو فيه لم يؤذن فيه أصلا لتلك الصلاة كافي. وظاهره أنه يكفيه أذان الحي وإقامته وإن كانت صلاته فيه آخر الوقت تأمل، وقد علمت تصريح الكنز بندبه للمسافر وللمصلي في بيته في المصر، فالمقصود من كفاية أذان الحي نفي الكراهة المؤثمة. قال في البحر: ومفهومه أنه لو لم يؤذنوا في الحي يكره تركهما للمصلي في بيته، وبه صرح في المجتبى، وأنه لو أذن بعض المسافرين سقط عن الباقين كما لايخفى"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 566):

"(ويقف الواحد) ولو صبياً، أما الواحدة فتتأخر (محاذياً) أي مساوياً (ليمين إمامه) على المذهب، ولا عبرة بالرأس بل بالقدم، فلو صغيراً فالأصح ما لم يتقدم أكثر قدم المؤتم لاتفسد، فلو وقف عن يساره كره (اتفاقاً وكذا) يكره (خلفه على الأصح)؛ لمخالفة السنة، (والزائد) يقف (خلفه) فلو توسط اثنين كره تنزيهاً، وتحريماً لو أكثر".  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107201307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے