بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گھر میں نحوست کا اعتقاد رکھنا لغو ہے


سوال

کیااس بات میں کوئی حقیقت ہے کہ کچھ گھروں میں برکت ہوتی ہے اور کچھ میں بیماری یا مالی نقصان ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ بات کی شریعت میں  کوئی اصل نہیں، یہ بات محض بدشگونی اور توہم پرستی ہے، جس کا اسلام میں  کوئی تصور   نہیں۔ گھر میں خیر و برکت اور بیماریوں اور نحوستوں کا ہونا انسان کے اپنے اعمال پر موقوف ہے،اگر گھر میں اسلامی تعلیمات کا احیاء ہوگا تو گھر برکت اور  خوشحالی کا گہوارہ ہوگا ،لیکن اگر  گھر کے افراد بد اعمالیوں اور گناہوں میں مبتلا ہوں گےتو  گھر میں بے برکتی ،بیماریوں ، مختلف  قسم کی پریشانیاں اورنقصانات  کا سامنا کرنا پڑے گا؛لہٰذا اس قسم کے خیالات سے اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ  کبھی  دین پر عمل پیرا لوگوں کے گھروں میں بھی  مشکلات اور مصائب   ان کی آزمائش کی خاطر پیش آسکتے ہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه:عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (‌لا ‌عدوى ‌ولا طيرة، ولا هامة ولا صفر)."

(كتاب الطب، باب: لا هامة، ولا صفر، ج:5، ص:2171، ط: دار إبن كثير)

فیض القدیر میں ہے:

"إن كان الشؤم) ضد اليمن مصدر تشاءمت وتيمنت قال الطيبي: واوه همزة خففت فصارت واوا ثم غلب عليها التخفيف ولم ينطق بها مهموزة (في شيء) من الأشياء المحسوسة حاصلا (ففي الدار والمرأة والفرس) يعني إن كان للشؤم وجود في شيء يكون في هذه الأشياء فإنها أقبل الأشياء له لكن لا وجود له فيها فلا وجود له أصلا ذكره عياض أي إن كان في شيء يكره ويخاف عاقبته ففي هذه الثلاث قال الطيبي: وعليه فالشؤم محمول على الكراهة التي سببها ما في الأشياء من مخالفة الشرع أو للطبع."

(حرف الهمزة، ج:3، ج:23، ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506100372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں