بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

گھر کے اوپر سے گرنے والے پانی کا حکم


سوال

اگر گھرکے اوپر سے پانی گر ے اور چھینٹےلگ جائیں  اور پتہ نہ ہوں کہ پاک  ہیں یا ناپاک تو کیا کیا کریں؟

جواب

بہتر یہ ہےکہ معلوم کرلیں، اگر مکان کے اوپر سے سیورج  وغیرہ کا پانی گر رہا ہے تو وہ ناپاک ہے،اور اگر اے سی یا گھر کی ٹنکی اور فلو ہونے کی وجہ سے زائد پانی گر رہا ہے  یا صاف پانی لائن کا گر رہا ہےتووہ پانی پاک ہے،باقی  خواہ مخواہ  وسوسہ اور وہم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے :

"قال في المنية: وعلى هذا ماء المطر إذا جرى في الميزاب وعلى السطح عذرات فالماء طاهر، وإن كانت العذرة عند الميزاب أو كان الماء كله أو نصفه أكثره يلاقي العذرة فهو نجس وإلا فطاهر. اهـ. وعلى ما رجحه الكمال قال في الحلية: ينبغي أن لا يعتبر في مسألة السطح سوى تغير أحد الأوصاف."

(کتاب الطہارۃ، باب المیاہ،ج1،ص188،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں