بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گھر کے خرچ کے لیے دی گئی رقم پر قربانی کا حکم


سوال

ہم دوبھائی مشترک رہتے ہیں ،دونوں عالم دین ہیں، ہماری تنخواہیں تو کم ہیں، لیکن رشتہ دار ہمارے ساتھ مالی معاونت کرتے ہیں ،اب چونکہ عید الاضحیٰ  کا موقع  ہے ،اور ہمارے پاس 3,00,000 (تین لاکھ ) کی مالیت ہے ،جو ہمارے گھر کے لئے ہمارے رشتہ داروں نے دی ہے اوربڑا بھائی ہو نے کی وجہ سے وہ رقم میرے قبضہ میں ہے،اب سوال یہ ہے کہ کیا قربانی بڑے بھائی پر ہے یا یہ مالیت گھر کے تمام افراد پر تقسیم کی جائے گی ؟

جواب

 صورت مسئولہ میں  اگرمذکورہ رقم سائل  کے رشتہ داروں نےسائل کو مالک بناکردی ہے ،تو ایسی صورت میں سائل پرعید کے ایام میں بقدر نصاب مالیت ہونے کی وجہ سے قربانی کرنا لازم ہوگا،اور اگر سائل کے رشتہ داروں نے مذکورہ رقم کسی کو مالک بنائے بغیر  صرف   گھریلو اخراجات کےلیے دی ہے،اور سائل کو اس کا ذمہ دار بنایا ہے،توایسی صورت میں مذکورہ  رقم کو قربانی کے نصاب میں شامل نہیں کیا جائے گا،اور گھر کے کسی فرد پر قربانی لازم نہیں ہوگی ،البتہ اگر اس  رقم کے علاوہ گھر کے کسی فرد کے پاس قربانی کا  نصاب( بنیادی ضرورت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے بقدر نقد رقم یا اس کے بقدر حوائج اصلیہ  اور استعمال سے زائد سامان) موجود ہو تواس پر  قربانی کے ایام میں قربانی کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

(كتاب الزكوٰٰة،الباب الثامن في صدقة الفطر،ج:1،ص:191،ط:رشيديه)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه

(قوله وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديرا كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم."

(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:262،ط:سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144411102811

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں