بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

گھر کے کام کاج میں بیوی کی مدد کرنا


سوال

 میں گھر کے کام کاج میں اپنی بیوی کی مدد کر دیتاہوں تو ایسا کرنا میری  والدہ کو نا گوار گزرتا ہے اور  وہ  مجھے اپنی بیوی کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کرنے سے منع کرتی ہیں۔  ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

گھر کے کام کاج میں مدد کرنا تو اچھی بات ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھریلوکام کاج میں ازواجِ مطہرات کا ہاتھ بٹانا ثابت ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج میں مشغول رہتے تھے پھر جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔اس لیے والدہ کوادب سے نبوی اخلاق کے بارے میں بتائیں/سمجھائیں کہ اگرچہ ہمارے معاشرے میں اس کا رواج نہیں لیکن  یہ کوئی بری بات نہیں،بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے۔اور یہی صالحین کا طریقہ رہا ہے،اس لیےاس میں کوئی عار کی بات نہیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ‌إبراهيم، عن ‌الأسود قال: «سألت عائشة: ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في بيته؟ قالت: كان يكون في مهنة أهله، تعني خدمة أهله، فإذا حضرت الصلاة خرج إلى الصلاة.»."

(کتاب الاذان،‌‌باب من كان في حاجة أهله فأقيمت الصلاة فخرج،ج1،ص136،ط؛دار طوق النجاۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں