بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رجب 1444ھ 28 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

گھر کے پڑوس کی زمین میں موجود درخت کی شاخیں اگر گھر پر آرہی ہوں توان کو کاٹنے کا حکم


سوال

ایک شخص کے گھر سے متصل کسی دوسرے شخص کی زمین(کھیت) ہے جس کی سطح گھر کی چھت کی سطح کے برابر ہے یعنی ڈھلوان جگہ پر گھر اور زمین ہیں، اس زمین میں گھر کی جانب چند قدم کے فاصلے پر اخروٹ کا ایک درخت بھی ہے، درخت کی شاخیں بہت پھیل گئی ہیں، جس کی وجہ سے دن کے ایک بڑے حصے میں گھر میں دھوپ نہیں پڑتی اور جب زمین و درخت کا مالک اخروٹ اتارتا ہے تو کافی تعداد میں اخروٹ گھر کے صحن میں گرتے ہیں، اللہ نہ کرے اگر تند و تیز ہوا سے درخت گر جائے تو جان و مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، نیز خزاں میں جب پتے جھڑ جاتے ہیں تو اکثر گھر کے صحن میں پڑتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا مالک مکان مذکورہ درخت کے مالک سے درخت کاٹنے کا کہے تو درخت والے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اور اگر اخروٹ گھر کے اندر گریں تو کیا مالک مکان درخت والے کو اخروٹ اٹھانے سے منع کریں اور خود رکھیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

۱۔صورت مسئولہ میں  اگر مذکورہ درخت کی شاخوں سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو مالکِ زمین کو چاہیے یا تو خود ان شاخوں کو کاٹ دے یا آپ کو کاٹنے کی اجازت دے دے۔

۲۔جو اخروٹ آپ کے گھر میں گرتے ہیں تو وہ زمین  کے مالک کے ہیں،  مالک کواخروٹ اٹھانے سے  منع کرنا جائز نہیں اور مالک کی اجازت کے بغیر اس کو کھانا بھی آپ کے لیے حلال نہیں ہے۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(إذا امتدت أغصان شجر بستان أحد إلى دار جاره أوبستانه فللجار أن يكلفه تفريغ هوائه بربط الأغصان وجرها إلى الوراء أو قطعها. ولكن لا تقطع الشجرة بداعي أن ظلها مضر بمزروعات بستان الجار)."

(الکتاب العاشر الشرکات ، الباب الثالث فی بیان المسائل المتعلقة بالحیطان و الجیران ، المادۃ :۱۱۹۶ جلد ۳ ص: ۲۰۹ ط: دارالجیل)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(کتاب الحدود ، باب التعزیر جلد ۴ ص: ۶۱ ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144404101454

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں