میرے گھر میں فضائلِ اعمال کی تعلیم ہوتی ہے اور اس میں میری بھابھی بھی میرے سامنے بیٹھ کر سنتی ہے، تو اس طرح کرنا درست ہے ؟
صورت مسئولہ میں بھابھی پردے میں ہوں یعنی بڑی چادر یا بڑے دوپٹے سے گھونگھٹ کی طرح اوڑھا ہوا ہو اور گھر کے دیگر افراد بھی تعلیم میں شامل ہوں تو فتنے کا خوف نہ ہونے کی بنا پر اس طرح تعلیم کرنا درست ہے، تاہم بیٹھنے کی ترتیب ایسی بنائی جائے کہ آپ کی بھابھی آپ کے سامنے نہیں بلکہ سامنے سے ہٹ کر دائیں بائیں بیٹھیں۔
تاہم مردوں کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ مسجد میں فضائل اعمال کے حلقے میں شریک ہوں اور گھر میں سمجھدار خاتون (مثلاً عالمہ) ہوں تو ان کی نگرانی میں صرف مستورات کا حلقہ لگے یا پھر نا محرم کے اختلاط سے اجتناب کرتے ہوئے گھر کی خواتین صرف اپنے محرم کے ساتھ تعلیم کا حلقہ لگائیں۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة."
(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج1، ص406، سعيد)
فقط والله أعلم
فتوی نمبر : 144404101969
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن