بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

غلط فہمی کی بناء پر سحری تاخیر سے بند کی


سوال

 ایک بندہ جو حنفی مسلک پر عمل کرتا ہے اور امریکہ میں رہتا ہے اور وہ اٹھارہ درجے پر صبح صادق کے مطابق عمل کرتا رہا ہے،وہ غیررمضان میں قضاء یا نفل روزے رکھ رہا تھا تو سحری کا وقت غلطی سے نماز کے اوقات والے سافٹ وئیر میں اٹھارہ درجے سے پندرہ درجے پر ہو گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے غلطی سے پندرہ درجے والے وقت پر روزہ بند کیا ،(اٹھارہ درجے والے پر صبح صادق پانچ بج کر بیس منٹ پر تھا جب کہ پندرہ درجے پر پانچ بج کر پینتیس منٹ)،  اس بندے نے غلطی سے پانچ بج کر بیس منٹ کے بعد اور پانچ بج کر پینتیس سے پہلے سحری بند کی، (وہاں قریبی مساجد والے شافعی مسلک پر عمل پیرا ہیں اور وہ پندرہ درجے پر عمل کرتے ہیں)، اس بندے نے ایک پورا روزہ اس پندرہ درجے کے مطابق رکھا ، دوسری سحری جب اس نے پندرہ درجے کے مطابق  کی اور صبح صادق ہو گئی تو پھر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔

الف۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس نے جو ایک روزہ پندرہ درجے کے مطابق رکھا ہے ،کیا وہ ٹھیک تصور ہو گا؟ یا اس کو دوبارہ رکھنا پڑے گا ؟ (اگر اس نے قضاء رکھا تھا یا نفل، دونوں حالتوں کے مطابق جواب دیں)

ب۔ اور جب اس نے پندرہ درجے کے مطابق سحری کر لی اور اب صبح صادق ہو گیا تو اب اس کے لیے کیا مناسب ہے ؟آیا وہ اس روزے کو پورا کر لے ؟ یا اس روزہ کو توڑ دے ؟

جواب

واضح رہے کہ  جمہور  محققین علماءِ  کرام بالخصوص پاکستان کے پائے کے علماءِ کرام جن میں سرِ  فہرست محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ و دیگرکے نزدیک صبحِ  صادق کا وقت ١٨درجہ زیرِ  افق کے مطابق ہے، اور ۱۵ درجہ زیرِ افق کا قول راجح نہیں، نیز ہمارے دیار کے جو علماء کرام ۱۵ درجہ  زیرِ افق کے قول کے قائل ہیں، ان کے نزدیک بھی احتیاط اسی میں ہے کہ سحری ۱۸ درجہ کے مطابق  ختم کردی جائے اور فجر ۱۵ درجہ کے بعد پڑھی جائے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص  غلط فہمی کی بناء  پر (۱۸ درجہ کے مطابق) صبح صادق  کا وقت   ہوجانے کے بعد بھی کھا پی لیا، تو  اس دن کا روزہ منعقد نہیں ہوا،چاہے وہ روزہ قضاء کاہو یا نفلی روزہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

"أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلاً و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ويكفي الشك في الأول دون الثاني عملاً بالأصل فيهما ولو لم يتبين الحال لم يقض في ظاهر الرواية، والمسألة تتفرع إلى ستة وثلاثين، محلها المطولات (قضى) في الصور كلها (فقط)."

(كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،2/ 405، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تسحرّ على ظن أن الفجر لم يطلع، وهو طالع أو أفطر على ظنّ أنّ الشمس قد غربت، ولم تغرب قضاه، ولا كفارة عليه؛ لأنه ما تعمد الإفطار، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الصوم ، الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه،1/ 194، ط:رشیدیہ)

البحر الرائق میں ہے:

"وأشار المصنف بالمسألتين إلى أصل وهو أن كل من صار في آخر النهار بصفة لو كان في أول النهار عليها للزمه الصوم فعليه الإمساك كالحائض والنفساء تطهر بعد طلوع الفجر أو معه والمجنون يفيق والمريض يبرأ والمسافر يقدم بعد الزوال أو الأكل  والذي أفطر عمدا أو خطأ أو مكرها أو أكل يوم الشك ثم استبان أنه من رمضان أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت أو تسحر بعد الفجر ولم يعلم ومن لم يكن على تلك الصفة لم يجب الإمساك كما في حالة الحيض والنفاس."

(كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،فصل في العوارض، 2 / 311،الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309100203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں