بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم پڑوسی کو زکوۃ دینا جائز نہیں


سوال

ہمارے پڑوس میں بہت سارے غیر مسلم بستے ہیں، تو کیا ہم اپنے غیر مسلم پڑوسی کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ   کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکوٰۃ ،صرف مسلمان کو مالک بناکر دینا ضروری ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں غیر مسلم پڑوسی کو زکوۃ دینا جائز نہیں، تاہم غیر مسلم اگر ضرورت مند ہو تو نفلی صدقات وغیرہ سے  اس  کی مدد کی جاسکتی ہے۔

المصنف لابی شیبہ میں ہے:

"عن إبراهیم بن مهاجر قال: سألت إبراهیم عن الصدقة علی غیر أهل الإسلام، فقال: أما الزکاة فلا، وأما إن شاء رجل أن یتصدق فلا بأس".

(كتاب الزكاة، باب ما قالوا في الصدقة یعطي منها أهل الذمة، ج:2، ص:402، ط:دارالتاج لبنان)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها أن يكون مسلما فلا يجوز صرف الزكاة إلى الكافر بلا خلاف لحديث معاذ - رضي الله عنه - «خذها من أغنيائهم وردها في فقرائهم» أمر بوضع الزكاة في فقراء من يؤخذ من أغنيائهم وهم المسلمون فلا يجوز وضعها في غيرهم. وأما سوى الزكاة من صدقة الفطر والكفارات والنذور فلا شك في أن صرفها إلى فقراء المسلمين أفضل؛ لأن الصرف إليهم يقع إعانة لهم على الطاعة وهل يجوز صرفها إلى أهل الذمة قال أبو حنيفة ومحمد: يجوز، وقال أبو يوسف: لا يجوز".

(كتاب الزكاة، فصل في الذي يرجع الى المؤدى إليه، ج:2، ص:49، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508102594

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں