بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک میں سودی لین دین کا حکم


سوال

کیا غیر مسلم ملک میں سودی لین دین جائز ہے؟ دارلعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ،ہندوستان کے شعبہ حدیث و فقہ کے استاذ ، مفتی زید مظاہری ندوی صاحب نے ایک مقالہ اسی موضوع پر 24 نومبر 2022 میں لکھا ہے اور امام ابو حنیفہ امام محمد ، علامہ اشرف علی تھانوی، علامہ مفتی محمود حسن گنگوھی،مناظراحسن گیلانی، مفتی ظفر احمد تھانوی ، وغیرہ کے حوالے سے اسے ثابت کیا ہے ، اور پھر اکابرین ہی کی تحریروں سے ہندوستان کو دار الحرب ثابت کر کے ہندستان میں غیر مسلم کے ساتھ سودی کاروبار کو جائز قرار دیا ہے ۔

جواب

 دار الحرب میں کافر حربی سے سود کے جائز ہونے یا نہ ہونے میں فقہاء کرام کے درمیان اختلاف ہے،  احناف میں سے  امام ابو یوسف رحمہ اللہ دارالحرب میں کافر حربی سے سود ی معاملے کو مطلقاً ناجائز کہتے ہیں،  البتہ حنفیہ میں سے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ  دارالحرب میں کافر حربی سے سود کو ایک غریب حدیث "لاربا بین المسلم والحربی"  کی بنیاد پر چند قیود کے ساتھ جائز کہتے ہیں، لیکن چوں کہ معاملہ سود کا ہے جس کی حرمت قرآنی آیات میں بغیر کسی قید کے منصوص ہے ؛ اس لیے حنفیہ کے یہاں جمہور کے مسلک (یعنی حرمت والے قول کو ) ترجیح حاصل ہے اور اسی پر فتویٰ ہے، طرفین کے مسلک (یعنی جواز کے قول) کو مرجوح قرار دیا گیا ہے،لہذا مسلمان خواہ دار الحرب میں ہو یا دار الاسلام میں،  سودی معاملہ مسلمان سے کرے یا غیر مسلم سے،  ہر حال میں ناجائز وحرام ہے،چناچہ  حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی اور مفتی شفیع  صاحب نے احتیاط کی بنا پر دار الحرب میں ربا کو ناجائز قرار دیا ہے،نیز حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی نے "اعلاء السنن " میں  احتیاط کے قول کواختیار کیا ہے۔

تفصیل کے لیے  امداد الفتاوی ( ج: 3، ص:117)،  رسالہ بعنوان:" تحذیر الاخوان عن الربا فی الھندوستان" اور فتاوی بینات، (ج: 4، ص: 95 تا 100 ) کتاب المعاملات ملاحظہ فرمائیں۔

قرآنِ کریم میں باری تعالی کا ارشاد ہے :

"{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}."

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔ [البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء."

(صحیح مسلم، باب لعن آکل الربوٰ و موکلہ، ج:1219،3،ط:داراحیاءالتراث العربی)

ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والےپر، سود کھلانے والے پر، سودی معاملہ کے لکھنے والے پر اور سودی معاملہ میں گواہ بننے والوں پر اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب (سود کے گناہ میں )برابر ہیں۔"

اعلاء السنن میں ہے:

"ولو سلمنا جواز الربا بین المسلم والحربی فی الہند،فلا ریب ان جانب احتیاط والتوقی عنہ اولیٰ واحریٰ."

(کتاب البیوع، ابواب بیوع الربا،ج:14،ص:368،ط:ادارۃ القرآن کراچی)

الفروق للقرافی میں ہے:

"فان اختلف العلماء فی فعل هل هو مباح او حرام فالورع الترک."

( الفرق السادس والعشرون والمئتان من الفروق، ج: 4، ص:27،ط:عالم الکتب) 

’’امداد المفتیین‘‘ میں ہے:

’’سوال۔۔  کیا ہندوستان میں آج کل سرکاری بینک اور ڈاک خانہ اور غیر مسلموں سے سود لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: دار الحرب میں غیر مسلموں سے سود لینے میں اختلاف ہے، امام اعظم اور امام محمد رحمہما اللہ  جائز فرماتے ہیں اور جمہور علماء اور امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد اور حنفیہ میں سے امام ابو یوسف رحمہم اللہ حرام فرماتے ہیں، روایات اور آیاتِ قرآنِ کریم میں بظاہر مطلقاً سود کی حرمت اور سخت وعیدیں مذکور ہیں؛ اس لیے احتیاط یہی ہے کہ ناجائز قرار دیا جائے۔

سود لینا کسی سے جائز نہیں مسلمان ہو یا ہندو۔ احتیاطی فتویٰ یہی ہے۔‘‘

(کتاب الربوٰ و القمار، ص :706 ،درا الاشاعت )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں