بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک میں کار انشورنس کا حکم


سوال

میں انگلینڈ میں رہتا ہوں، ہم کار کا انشورنس کراتے ہیں، اگر نہ کروائیں تو وہ لوگ ہماری کار لے جاتے ہیں یا اس شخص کو گرفتار کرلیتے ہیں، مختصر یہ کہ ہم کار نہیں چلا سکتے۔ براہِ کرم شرعی حکم بتائیں کہ کیا کیا جائے؟

جواب

کار انشورنس بھی جوئے کی ایک صورت  ہے ، لہذا اپنے اختیار سے کار انشورنس کراناشرعاً جائز نہیں، لیکن جبری اور قانونی طور پر اگر کار کی انشورنس کرانا لازمی ہو تو دل سے ناجائز سمجھتے ہوئے انشورنس کرانے والے مجبور شخص کو  اس کا گناہ نہیں ہوگا،  البتہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں صرف اپنی جمع کی ہوئی رقم کی بقدر ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144201201131

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں