بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کمپنیوں کو دھوکا دینا


سوال

کئی مسلمان حضرات Amazon اور Flipkart سے خریدی کرتے ہیں ،لیکن بعض دفعہ دیکھا گیا کہ کئی خریدار اس میں ایک قسم کا دھوکہ کرتے ہیں ،جیسے آن لائن کوئی چیز خرید نا پھر وہ چیز ملنے کے بعد اسی کے پارسل میں کوئی دوسری غلط چیز ڈال کر کمپنی کو Return request کرنا اور کہنا کے آپ نے ہمیں غلط چیز بھیجی ہے، پھر کمپنی انھیں ایک دفعہ اور وہی چیز بھیجتی ہے ،اور جب ان صاحبان سے کچھ کہا جائے تو کہہ دیتے ہیں کے یہ یہودی عیسائی کمپنیاں ہیں انہیں ہر اعتبار سے نقصان پہنچانا چاہئے، ہم پر کئی طرح کے مظالم ان لوگوں  نے کیے ہیں،  اس لیے ہم کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم حکومت اور ان یہودی عیسائی کمپنیوں کو نقصان پہنچائے اس دعوے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ 

جواب

واضح رہے کہ کسی مسلمان کے لیےتجارتی معاملات میں بھی  دھوکہ دینے  کی گنجائش نہیں خواہ جس کو دھوکہ دیا جارہا ہو وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، آن لائن خریداری کی صورت میں  اگر وہ مبیع( جو چیز فروخت ہورہی ہے) وعدے کے مطابق مشتری(خریدار) کو ملے تو یہ بیع تام ہوجاتی ہے اور مشتری کے لیے بلا عذر  وہ چیز واپس کرنے کی گنجائش نہیں،لہذا صورت مسئولہ میں جب بائع (بیچنے والے) نے اپنے وعدے کے مطابق وہی چیز (مبیع) بھیجی جس کا وعدہ کیا تھا، تو مشتری کے لیے یہ جھوٹ بول کر دھوکہ کرنا کہ آپ نے غلط چیز بھیجی ہے، جائز نہیں بل کہ اپنے آپ کو حدیث شریف میں دھوکہ اور خیانت سے متعلق ذکر کردہ وعید کا مصداق ٹھہرانا ہے،اپنے اس عمل کے لیے جو چیز بنائی ہے کہ یہودی اور عیسائیوں کو نقصان پہنچانا جائز ہے،یہ ان کی دینی تعلیمات سے ناواقفیت کا نتیجہ ہےیا محض اپنے نفس کو بہلانے کا ذریعہ ہے،شرعا اس کی اجازت نہیں ہے۔

مسلم شریف میں ہے:

" آية المنافق ثلاث وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان." 

 ترجمہ:"منافق کی تین نشانیاں ہیں، اگر چہ وہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے: ایک یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولے  ، دوسرے یہ کہ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، تیسرے یہ کہ جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔"

مسند احمد میں ہے:

 " وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب."

ترجمہ: "مومن ہر خصلت پر ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔"

فتح القدیر میں ہے:

"قوله وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية."

(كتاب البيوع، ج:6، ص:257، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144402101887

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں