بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک کن صورتوں میں چھوڑنا ضروری ہے؟


سوال

میں جرمنی میں رہتا ہوں ،میرے دو بیٹے ہیں، بڑا بیٹا چھ سال کا ہے اور اس سال سے اپنا اسکول شروع کرے گا، چھوٹا بچہ ڈیڑھ سال کا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو ہم غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں اور یہاں کے اسکول میں بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ آپ ہی آپ ہو، سب کچھ آپ نے خود ہی کرنا ہے، ہر اچھی بُری بات جس کی ہمارا مذہب اجازت بھی نہیں دیتا وہ بچوں کو اسکول میں ذہن نشین کردی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے بچہ آگے جا کر اُس طرح کا دین کا پابند نہیں ہوتا جس طرح ایک اسلامی ملک میں ہوتا ہے، اس طرح سے ان کو آہستہ آہستہ جو قریبی رشتہ دار ہیں ان کی قدر بھی نہیں ہوتی اور وہ بڑوں کا اس طرح ادب و احترام نہیں کرتے جس طرح ہم پاکستان میں اپنے بزرگوں کا ادب و احترام کرتے ہیں۔ ماں باپ بھی اپنے بچوں پر ان کی غلط حرکتوں پر سختی نہیں کرسکتے، ورنہ یہاں بچوں کو اٹھا کر سرکاری اداروں میں ڈال دیا جاتا ہے، پھر ان بچوں کو یہ غیر مسلم اپنی مرضی سے ڈیل کرتے ہیں۔ بحیثیت باپ مجھے اب یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ اگر میرا بچہ اسکول میں یہ سب چیزیں سیکھتا ہے تو آگے چل کر تو یہ دینِ اسلام سے دور ہوتا چلا جائے گا، کیوں کہ اسکول میں تو ان کو اسلام نہیں پڑھایا جاتا اور نہ ہی ان کو اسلامی ماحول مل رہا ہے، میں جرمنی میں اٹھارہ سال سے مقیم ہوں، سچ پوچھیے تو یہاں وقت میں برکت نہیں لگتی، یہاں پر مسجد ہے، لیکن وہی الگ الگ مسلک کی جو دیوبند مسلک کی مسجد ہے وہ بہت دور ہے اور آنا جانا اتنا آسان نہیں ہوتا، میرے بچے کو میرا کزن پاکستان سے قرآن پڑھاتا ہے، لیکن صرف قرآن پڑھوانا ہی مقصد نہیں ہے، بلکہ یہاں کا ہر باپ یہی چاہتا ہے کہ اس کا بچہ ایک اچھا مسلمان ایمان والا انسان بنے ، جس کو رشتوں کی قدر ہو، اب آپ سے رائے چاہتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ، آیا کہ پاکستان شفٹ ہوجاؤں یا دوسرے اسلامی ملک میں  جو کہ اتنا آسان نہیں ہے، کافی دوستوں سے مشورہ کیا ، لیکن ان کے مطابق پاکستان میں مہنگائی بہت ہے اور دوسرے مسئلہ مسائل بھی ہیں، اپنا گھر ہونا چاہیے، وہاں آپ کی اچھی نوکری بھی ہونی چاہیے، جو کہ میرے پاس نہیں ہے،وہاں اپنا مکان اور اٹھارہ سال جرمنی میں گزارنے کے بعد وہاں پر بہت اچھے پیسوں  میں نوکری ملنا مشکل ہے، لیکن دوسری طرف میری اولاد ہے، اس کی تربیت اچھی نہیں کی، اور اگر وہ بھٹک گیا تو میری پکڑ  ہوگی قیامت کے دن ، برائے مہربانی  میری مدد کیجیے اور راہ نمائی فرمائیے!

جواب

کسی بھی اسلامی ملک کا رہائشی اگر اپنا ملک چھوڑ کر دار الکفر میں رہائش اختیار کرتاہے تو اس کے لیے درج ذیل احکام ہیں:

بلا کسی ضرورت و حاجت اور شدید مجبوری کے  صرف دولت کے حصول اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے یا اپنے معاشرے میں معزز بننے اور دوسرے مسلمانوں پر اپنی بڑائی جتلانے  کے لیے مسلم ملک کو چھوڑ کر  غیر مسلم ممالک میں مستقل رہائش اختیار کرنا اور دار الحرب کی شناخت و قومیت کو افضل سمجھتے ہوئے دار الاسلام کی شناخت و قومیت پر ترجیح دے کر غیر مسلم ملک کی شہریت وقومیت حاصل کرنا  جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ اس صورت میں آدمی محض دنیاوی لالچ کی وجہ سے اپنے دین و ایمان کو اور اپنے دینی تشخص کو داؤ پر لگاتا ہے اور عام طور سے تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جو لوگ صرف ان اغراض کی وجہ سے غیر مسلم ممالک جاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ ان ممالک میں موجود گناہوں اور   منکرات کے سمندر میں ڈوب کر (اگر ایمان سے محروم نہ بھی ہوں)  کم از کم دینی احکام اور اسلامی تشخص  سے ضرور محروم ہو جاتے ہیں،  اور رفتہ رفتہ وضع قطع (لباس، حلیہ، شکل و صورت) اور بود و باش میں مکمل طور پر کفار کی مشابہت  نہ صرف اختیار کرتے ہیں، بلکہ کفار کی مشابہت کو اپنے لیے  باعثِ فخر سمجھتے ہیں،  جو کہ صریح حرام ہے۔

مزید یہ کہ اگر بیوی بچے  بھی ساتھ ہوں تو خاندان کا سربراہ ہونے کی وجہ سے ان کی دینی تربیت کا انتظام نہ کرنے  کے باعث ان کی بے دینی کا گناہ اور وبال بھی اسی شخص پر پڑے گا، چنانچہ اسی وجہ سے حدیث شریف میں شدید ضرورت  کے بغیر کفار و مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مشرک کے ساتھ موافقت کرے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ اسی کے مثل ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، تم یہ امتیاز نہیں کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے۔

البتہ اگر کوئی مسلمان کسی شدید عذر و مجبوری کی وجہ سے غیر مسلم ممالک میں جاکر رہائش اختیار کرتا ہے، مثلاً بغیر کسی جرم کے اپنے ملک میں مظالم اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑ رہی ہوں اور ان مظالم سے بچنے کی کوئی اور صورت نہ ہو یا کوئی شخص شدید معاشی بحران کا شکار ہو اور کوشش کے باوجود اسلامی ملک میں معاشی وسائل دست یاب نہ ہوسکیں  یا کوئی شخص غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہنچانے اور غیر مسلم ملک میں مقیم مسلمانوں کو دینی احکامات کی تعلیمات دینے اور  دینِ اسلام پر ان کی ثابت قدمی برقرار رکھنے کی نیت سے غیر مسلم ممالک میں جاکر رہائش اختیار کرتا ہے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ  اسے اس بات کا مکمل اعتماد ہو کہ وہ غیر مسلم ملک میں شرعی احکامات کی مکمل پیروی کرکے اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس ملک میں موجود منکرات اور فحاشی کے سمندر میں  اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچا سکتا ہے، اسی طرح اگر بیوی بچے ساتھ ہوں تو ان کے متعلق یہ اطمینان ہونا بھی شرط ہے۔

غیر مسلم ملک میں پہلے سے آباد نومسلم جس کے لیے دوسرے ممالک میں رہائش رکھنا مشکل ہو، اور اسی ملک میں رہتے ہوئے دینِ اسلام پر چلنے میں رکاوٹ نہ ہو تو اس کے لیے بھی وہاں رہائش رکھنے کی اجازت ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب بچوں کا  اعتقاد اور اخلاق متاثر  ہورہے ہیں، تو  وہاں سائل کے لیے رہائش اختیار کرنا شرعاً درست نہیں ،جلد از جلد  وہاں سے اسلامی ملک میں منتقل ہوجائیں،اور مشورہ یہی ہے کہ  یہاں پاکستان میں رہ کر کم آمدنی پر قناعت اختیار کریں، اللہ تعالیٰ سے برکت کی دعا کریں، نمازوں کا اہتمام کریں اور بچوں کی تربیت پر توجہ  دیں اور اسلامی ماحول میں  دیکھ بھال کریں،رزق کی تنگی و فراخی اللہ رب العزت کی طرف سے ہوتی ہے؛  لہٰذا دل برداشتہ ہونے کے بجائے اللہ پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے ثابت قدمی کے ساتھ اپنی ملک میں  کمائی کی طلب جاری رکھیں، اور شیطان کو خوشی کا موقع ہرگز فراہم نہ کریں، اس لیے کہ شکر کے نتیجہ میں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اضافہ کردیتا ہے، ارشاد ہے، "لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّـكُمْ " (ترجمہ اگر تم شکر کروگے تو میں ضرور بالضرور تمہیں زیادہ دوں گا) اور تقوی اختیار کیجیے، گناہوں سے مکمل اجتناب کی کوشش کیجیے، کیوں کہ متقی کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے کہ جہاں اس کا وہم و گمان تک نہیں ہوتا ہے، ارشاد ہے:  "وَمَنْ يَّـتَّـقِ اللهَ يَجْعَلْ لَّه مَخْرَجاً وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَايَحْتَسِبْ"  (ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مصائب سے نکلنے کی راہ بنا دیتے ہیں اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتے ہیں جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا) اور  اپنی آمدن میں سے حسبِ استطاعت صدقہ کرتے رہیں، استغفار اور درود شریف کی کثرت کا اہتمام کریں، اس کے علاوہ ہمیشہ باوضو رہنے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں ، پانچ وقت کی نماز اہتمام سے باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں اور نمازوں کے بعد انتہائی توجہ وعاجزی سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنے مسائل کے حل  کے لیے دعا مانگیں۔  فجر کی نماز کے بعد سونے سے اجتناب کریں اور ہر نماز کےبعد سات مرتبہ   درج ذیل دعا کا اہتمام جاری رکھیں:

"اَللّٰهُمَّ اكْفِني بِحَلالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ". 

حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کو ستر(70) مرتبہ پابندی سے یہ آیت پڑھا کرے وہ رزق کی تنگی سے محفوظ رہے گا اور فرمایا: بہت مجرب عمل ہے ،آیت یہ ہے:

 {اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْقَوِيُّ العَزِيزُ}[الشوری: ۱۹](معارف القرآن:ج: ۷ ص: ۶۸۷، ادارۃ المعارف)

نیز  درج ذیل دعا چلتے پھرتے مانگنے کی عادت بنالیں:

"اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ".

ترجمہ: اے اللہ !میرے گناہ بخش دیجیے، اور میرے گھر میں وسعت اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔ 

حوالہ جات ملاحظہ کیجیے:

ارشاد ربانی ہے:

وَ اِذَا رَاَیتَ الَّذِینَ یَخُوضُونَ فِی اٰیٰتِنَا فَاَعرِض عَنھم حَتّٰی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیطٰنُ فَلَا تَقعُد بَعدَ الذِّكرٰي مَعَ القَومِ الظّٰلِمِینَ "[الأنعام: 68]

ترجمہ:"اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات میں عیب جوئی کررہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہوجایہاں تک کہ وہ کوئی اور بات میں لگ جائیں اور اگر تجھ کو شیطان بھلادے (ف ٢) تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ ۔ ( از بیان القرآن)

سنن أبي داودمیں ہے :

"حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى بن حسان، أخبرنا سليمان بن موسى أبو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن أبيه سليمان بن سمرة، عن سمرة بن جندب، أما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله»".

ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مشرک کے ساتھ موافقت کرے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ اسی کے مثل ہے۔"

(الكتاب: سنن أبي داود، المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث بن إسحاق بن بشير بن شداد بن عمرو الأزدي السّجِسْتاني (المتوفى: 275هـ) كتاب الجهاد، باب فى الإقامة بأرض المشرك، ج:3،ص:93، الرقم:2787، ط:المكتبة العصريه)

وفیہ ایضاً:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين». قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: «لاتراءى ناراهما»."

ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، تم یہ امتیاز نہیں کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے۔"

(كتاب الجهاد، ج:3، ص:45، الرقم:2645، ط:المكتبة العصريه)

 بذل المجہود میں ہے:

"حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثني يحيى بن حسان قال: أنا سليمان بن موسى) وكنيته (أبو داود قال: نا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب قال: حدثني خبيب بن سليمان، عن أبيه سليمان بن سمرة، عن سمرة بن جندب: أما بعد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌من ‌جامع ‌المشرك) أي: اجتمع معه في دار أو بلد، والأحسن أن يقال: معناه اجتمع معه، أي: اشترك في الرسوم والعادة والهيئة والزي، وأما قوله: (وسكن معه) علة له، أي: سكناه معه صار علة لتوافقه في الهيئة والزي والخصال (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن "فتح الودود": فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلًا له لتأثير الجوار والصحبة، ويحتمل أنه تغليظ."

(باب في الإقامة  بأرض الشرك،ج: 9، ص: 525،  رقم الحدیث:2887، ط:مرکز الشیخ ابوالحسن الندوی ،الھند)

معالم السنن میں ہے:

"قال: أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين. قالوا: يا رسول الله! لِمَ؟ قال: لاترايا ناراهما... وقوله: لاترايا ناراهما. فيه وجوه: أحدها، معناه: لايستوي حكماهما، قاله بعض أهل العلم. وقال بعضهم: معناه أن الله قد فرق بين داري الإسلام والكفر، فلايجوز لمسلم أن يساكن الكفار في بلادهم حتى إذا أوقدوا ناراً كان منهم بحيث يراها.

وفيه دلالة على كراهة دخول المسلم دار الحرب للتجارة والمقام فيها أكثر من مدة أربعة أيام.

وفيه وجه ثالث ذكره بعض أهل اللغة، قال: معناه لايتسم المسلم بسمة المشرك ولايتشبه به في هديه وشكله، والعرب تقول (ما نار بعيرك أي ما سمته) ومن هذا قولهم: (نارها نجارها) يريدون أن ميسمها."

(كتاب الجهاد، ج:2، ص:271، ط:المطبعة العلميه)

"الجامع لاحکام القرآن للقرطبی"  میں ہے:

"(فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا ‌في ‌حديث ‌غيره)أي غير الكفر. (إنكم إذا مثلهم) فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر، لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم، والرضا بالكفر كفر، قال الله عز وجل: (إنكم إذا مثلهم). فكل من جلس في مجلس «» معصية ولم ينكر عليهم يكون معهم في الوزر سواء....وإذا ثبت تجنب أصحاب المعاصي كما بينا فتجنب أهل البدع والأهواء أولى."

(تفسير سورة النساء :140 ،ج:5، ص:418، ط:دار الكتب المصرية)

وفیہ ایضاً:

"الثالثة- قوله تعالى:(إلى ‌الذين ظلموا)قيل: أهل الشرك. وقيل: عامة فيهم وفي العصاة، على نحو قوله تعالى:" ‌وإذا ‌رأيت ‌الذين يخوضون في آياتنا" «3» [الأنعام: 68] الآية. وقد تقدم. وهذا هو الصحيح في معنى الآية، وأنها دالة على هجران أهل الكفر والمعاصي من أهل البدع وغيرهم، فإن صحبتهم كفر أو معصية، إذ الصحبة لا تكون إلا عن مودة، وقد قال حكيم «4»: عن المرء لا تسأل وسل عن قرينه … فكل قرين بالمقارن يقتدي."

(سورة هود (11): آية 114، ج:9، ص:108، ط:دار الكتب المصرية)

تفسیرروح المعانی میں ہے:

"تتخذونهم أولياء والحال أنه تعالى نزل عليكم قبل هذا بمكة في الكتاب أي القرآن العظيم الشأن أن إذا سمعتم آيات الله يكفر بها ويستهزأ بها فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره وذلك قوله تعالى: وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم الآية، وهذا يقتضي الانزجار عن مجالستهم في تلك الحالة القبيحة، فكيف بموالاتهم والاعتزاز بهم؟....واستدل بعضهم بالآية على تحريم مجالسة الفساق والمبتدعين من أي جنس كانوا."

 

‌‌(سورة النساء، آيات:126-147، ج:3، ص:166-167، ط:دار الكتب العلمية)

مرقاۃ المفاتیح  شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن عمر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «‌لا ‌تجالسوا ‌أهل القدر» ) : بضم أوله أي: لا تواددوهم، ولا تحابوهم، فإن المجالسة ونحوها من المماشاة من علامات المحبة وأمارات المودة، فالمعنى لا تجالسوهم مجالسة تأنيس وتعظيم لهم لأنهم إما أن يدعوك إلى بدعتهم بما زينه لهم شيطانهم من الحجج الموهمة، والأدلة المزخرفة التي تجلب من لم يتمكن في العلوم والمعارف إليهم ببادي الرأي، وإما أن يعود عليكم من نقصهم وسوء عملهم ما يؤثر في قلوبكم وأعمالكم؛ إذ مجالسة الأغيار تجر إلى غاية البوار ونهاية الخسار. قال تعالى: {ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين}و لاينافي إطلاق الحديث تقييد الآية في المنافقين حيث قال الله تعالى: {فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره إنكم إذا مثلهم} وكذا قوله عز وجل:{وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره} فلم ينه عن مجالستهم مطلقًا؛ لأنّ الحديث يحمل على من لم يأمن على نفسه منهم؛ فيمنع عن مجالستهم مطلقًا، والآية على من أمن فلا حرج عليه في مجالسته لهم بغير التأنيس، والتعظيم ما لم يكونوا في كفر، وبدعة، وكذا إذا خاضوا وقصد الرد عليهم وتسفيه أدلتهم، ومع هذا؛ البعد عنهم أولى، والاجتناب عن مباحثتهم أحرى."

[كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، ج:1، ص:182،ط:دار الفكر بيروت]

وفیہ ایضاً:

"وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له ‌مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه.....فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق."

(كتاب الأدب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، ج:8، ص:3147، ط:دار الفكر) 

وفیہ ایضاً:

"قال تعالى: {ولا تركنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار} ، الكشاف: النهي متناول للانحطاط في هواهم، والانقطاع إليهم ومصاحبتهم ومجالستهم وزيارتهم ومداهنتهم، والرضا بأعمالهم، والتشبه بهم، والتزيي بزيهم، ومد العين إلى زمرتهم، وذكرهم بما فيه تعظيم لهم."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغيبة والشتم، ج:9، ص:89، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100566

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں