بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے ہوٹل میں گوشت کھانے کا حکم


سوال

کیا غیر مسلم کے ہوٹل میں مرغی کا گوشت کھانا درست ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ حلال  جانور اور حلال پرندہ  وغیرہ کا گوشت  حلال و حرام ہونے میں اصل مدار ذبح کرنے والے پر ہے،  اگر ذبح کرنے والا مسلمان یا اہل کتاب ہے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہے  تو اس گوشت کا کھانا جائز ہے  اور اگر ذبح کرنے والا غیر مسلم ہے ، مسلمان اور اہل کتاب نہیں ہے تو اس گوشت کا کھانا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ میں اگر  ہوٹل والا غیر مسلم ہے مسلمان اور اہل کتاب نہیں ہے اور  مرغی کو خود ذبح کرتا ہے  تو اس صورت میں یہ گوشت کھا نا جائز نہیں اور اگر  مسلمان یا اہل کتاب اللہ کا نام لے کر  ذبح کرتا ہے  یا ہوٹل والا (غیر مسلم)  مسلمانوں کے  بازار سے مرغی کا گوشت خرید تاہے ،  تو اس صورت میں  پکانے والا چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم،  یہ گوشت کھا نا جائز ہوگا،بشرطیکہ کوئی ناپاک یا  حرام چیز پکانے میں شامل نہ کی  گئی ہو ۔  البتہ اگر  ذبح کرنے والے کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ مسلمان ہے یا غیر مسلم،تو اس صورت میں غیر مسلم کے ہوٹل میں کھانےسے احتراز کیا جائے ۔

بدائع الصنائع میں ہے: 

"(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد أما ذبيحة أهل الشرك فلقوله تعالى {وما أهل لغير الله} [المائدة: 3] وقوله عز وجل {وما ذبح على النصب} [المائدة: 3] أي للنصب وهي الأصنام التي يعبدونها.

وأما ذبيحة المجوس فلقوله - عليه الصلاة والسلام :سنوا بالمجوس سنة أهل الكتاب غير ناكحي نسائهم ولا آكلي ذبائحهم" ولأن ذكر اسم الله تعالى على الذبيحة من شرائط الحل عندنا لما نذكر ولم يوجد.

وأما المرتد؛ فلأنه لا يقر على الدين الذي انتقل إليه فكان كالوثني الذي لا يقر على دينه."

(کتاب الذبائح و الصیود ، فصل فی بیان شرط حل الاکل فی الحیوان الماکول ، ج:5 ص: 45 ط: رشیدیہ)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے :  

"(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد."

(‌‌کتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5 ص: 285 ط: رشیدیۃ)

وفیہ ایضاً:

"ولا بأس بطعام المجوس كله إلا ‌الذبيحة، فإن ذبيحتهم حرام."

(کتاب الکراھیۃ، الباب الرابع عشر في أهل الذمة والأحكام التي تعود إليهم ج:5 ص: 374)

فقط والله اعلم 


فتوی نمبر : 144308101157

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں