بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنے کاحکم


سوال

میں آسٹریلوی امیگریشن کے لیے درخواست دینے کا سوچ رہا ہوں، کیا آپ راہ نمائی کر سکتے ہیں کہ کیا اسلام میں مستقل طور پر اسلامی ریاست سے غیر اسلامی ریاست میں منتقل ہونا جائز ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ بلا کسی ضرورت و حاجت اور شدید مجبوری کے  صرف دولت کے حصول اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے یا اپنے معاشرے میں معزز بننے اور دوسرے مسلمانوں پر اپنی بڑائی جتلانے  کے لیے مسلم ملک سے ہجرت کرکے  غیر مسلم ممالک میں جاکر مستقل رہائش اختیار کرنا اورغیر مسلم ملک  کی شناخت و قومیت کو افضل سمجھتے ہوئے دار الاسلام کی شناخت و قومیت پر ترجیح دے کر غیر مسلم ملک کی شہریت و قومیت حاصل کرنا  جائز نہیں ہے،  اور عام طور سے تجربہ اس پر شاہد ہے کہ جو لوگ صرف ان اغراض کی وجہ سے غیر مسلم ممالک جاتے ہیں تو وہ آہستہ آہستہ ان ممالک میں موجود گناہوں اور   منکرات کے سمندر میں ڈوب کر  اپنے دینی احکام اور دینی تشخص  سے محروم ہو جاتے ہیں، اور رفتہ رفتہ اپنے دینی لباس، حلیہ، شکل و صورت اور بود و باش میں مکمل طور پر کفار کی مشابہت  نہ صرف اختیار کرتے ہیں،  بلکہ کفار کی مشابہت کو اپنے لیے  باعثِ فخر سمجھتے ہیں،  جو کہ صریح حرام ہے، اور اگر ایک نسل اس سے محفوظ رہ بھی جائے تو اگلی نسل میں یہ بگاڑ آجاتاہے۔

البتہ اگر کوئی مسلمان کسی شدید عذر و مجبوری کی وجہ سے غیر مسلم ممالک میں جاکر رہائش اختیار کرتا ہے، مثلاً بغیر کسی جرم کے اپنے ملک میں مظالم اور قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑ رہی ہوں اور ان مظالم سے بچنے کی کوئی اور صورت نہ ہو یا کوئی شخص شدید معاشی بحران کا شکار ہو اور کوشش کے باوجود اپنے اسلامی ملک میں معاشی وسائل دست یاب نہ ہوسکیں  یا کوئی شخص غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہنچانے اور غیرمسلم ملک میں مقیم مسلمانوں کو دینی احکامات کی تعلیمات دینے اور ان کو دین پر جمانے کی نیت سے غیر مسلم ممالک میں جاکر رہائش اختیار کرتا ہے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ  اسے اس بات کا مکمل اعتماد ہو کہ وہ غیر مسلم ملک میں شرعی احکامات کی مکمل پیروی کرکے اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس ملک میں موجود منکرات اور فحاشی کے سمندر میں  اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچا سکتا ہے،  تو پھر غیر اسلامی ملک میں رہائش اختیار کرنا ناجائز نہیں ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من جامع المشرك وسكن معه فإنه مثله»."

(كتاب الجهاد، باب فى الإقامة بأرض المشرك،ج:3،ص:93،الرقم:2787،ط:المكتبة العصريه)

ترجمہ:"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مشرک کے ساتھ موافقت کرے اور اس کے ساتھ رہائش اختیار کرے وہ اسی کے مثل ہے۔"

وفیہ ایضاً:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:«أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين». قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: «لاتراءى ناراهما»."

(كتاب الجهاد،ج:3،ص:45،الرقم:2645،ط:المكتبة العصريه)

ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی آگ اور کفر کی آگ دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں، تم یہ امتیاز نہیں کر سکو گے کہ یہ مسلمان کی آگ ہے یا مشرکین کی آگ ہے۔"

معالم السنن میں ہے:

"قال: أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين. قالوا: يا رسول الله! لِمَ؟ قال: لاترايا ناراهما... وقوله: لاترايا ناراهما. فيه وجوه: أحدها، معناه: لايستوي حكماهما، قاله بعض أهل العلم. وقال بعضهم: معناه أن الله قد فرق بين داري الإسلام والكفر، فلايجوز لمسلم أن يساكن الكفار في بلادهم حتى إذا أوقدوا ناراً كان منهم بحيث يراها.

وفيه دلالة على كراهة دخول المسلم دار الحرب للتجارة والمقام فيها أكثر من مدة أربعة أيام.

وفيه وجه ثالث ذكره بعض أهل اللغة، قال: معناه لايتسم المسلم بسمة المشرك ولايتشبه به في هديه وشكله، والعرب تقول (ما نار بعيرك أي ما سمته) ومن هذا قولهم: (نارها نجارها) يريدون أن ميسمها."

(كتاب الجهاد،ج:2،ص:271،ط:المطبعة العلميه)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144408100909

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں