بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

گائے کو عقیقہ کے طور پر ذبح کرنے کا حکم


سوال

کیا گائے کو عقیقہ کے طور پر ذبح کیا جاسکتا ہے یا صرف بکرا ہی شرط ہے ، دو دو حصے لڑکے کا اور ایک حصہ لڑکی کا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں گائے  کو عقیقے میں ذبح کیا جاسکتا ہے، اگر گائے میں قربانی کے حصے بھی ہوں، یا ایک سے زیادہ عقیقے کرنے ہوں تو  لڑکے  کے  لیے دواور لڑکی  کے  لیے ایک حصہ کی نیت کرکے عقیقہ کرسکتے ہیں۔

'سنن أبي داود" میں ہے:

"عن جابر بن عبد الله، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: البقرة ‌عن ‌سبعة، ‌والجزور ‌عن ‌سبعة."

 (‌‌كتاب الأضاحى، باب في البقرة والجزور، رقم الحديث:2808، ج:4، ص:432، ط:دار الرسالة العالمية)

"المعجم الصغير للطبراني"  میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: من ‌ولد ‌له ‌غلام ‌فليعق ‌عنه ‌من ‌الإبل ‌أو ‌البقر ‌أو ‌الغنم."

(‌‌باب الألف، ‌‌باب من اسمه إبراهيم، رقم الحديث:229، ج:1، ص:150، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع" میں ہے:

"ولو أرادوا القربة؛ الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجبت على البعض دون البعض، وسواء اتفقت جهات القربة أو اختلفت بأن أراد بعضهم الأضحية وبعضهم جزاء الصيد وبعضهم هدي الإحصار وبعضهم كفارة شيء أصابه في إحرامه وبعضهم هدي التطوع وبعضهم دم المتعة والقران وهذا قول أصحابنا الثلاثة."

(کتاب الاضحیة،‌‌ فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية، ج:5، ص:71، ط:سعيد)

"الفتاوى الهندية" میں ہے:

"يجب أن يعلم أن الشاة لا تجزئ إلا عن واحد، وإن كانت عظيمة، والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى."

(كتاب الأضحية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا، ج:5، ص:304، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں