بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

گاؤں سے شہر منتقل ہونے کے بعد بنجر زمین پر قصر کرے


سوال

میرا گاؤں میرے  شہر  کی مستقل رہائش سے تقریباً  170 کلومیٹردور ہے اور گاؤں کی آ بائی  زمین بنجر اور آ بائی گھر بھی نامکمل ہے جس میں کسی کی رہائش نہیں، ( صرف دیواریں اور چھت بنی ہیں)، جب بھی گاؤں جانا ہو تو سسرال، تایا یا چچا کے گھر رہائش پذیر ہوتا ہوں۔ مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اگر 15 دن سے کم قیام کرنا ہو تو میرے لیے قصر نماز کا کیا حکم ہے؟ اور میری زوجہ جو کہ اپنے والدین کے گھر قیام کرے تو اس کے لیے قصر نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر آپ نے مستقل رہائش شہر یا کسی اور جگہ منتقل کرلی ہے اور  گاؤں سے رہائش ختم کردی ہے تو  گاؤں جانے کی صورت میں اگر وہاں پندرہ دن قیام کا ارادہ نہ ہو تو قصر کریں اورآپ کی اہلیہ بھی وہاں قصر کرے۔

"( الوطن الأصلي یبطل بمثله) أي إذا لم یبق له بالأول أهل.

  (قوله: إذا لم یبق له بالأول أهل) أي وإن بقی فیه عقار، قال في النهر: ولو نقل أهله و متاعه وله دور في البلد لاتبقی وطنًا له". ( فتاوی شامیة، ٢/۱۳۱۔۳۲)

البحرالرائق : 2/136

فتح القدير : 2/18. فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109202412

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں