بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

گردن کا مسح کیسے کیا جائے؟


سوال

گردن پر جو مسح کیا جاتا ہے ،  مسح کرتے وقت ہاتھ گردن پر رکھ کر فورًا اٹھا لیں گے یا گھسیٹتے ہوئے لائیں گے؟

جواب

گردن  پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ  انگلیوں کی پشت کو گردن پر پھیر لیا جائے،  نہ کہ انگلیوں کو گردن پر دبائے رکھا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھیرنا ہی ثابت ہے۔

السنن الكبرى للبيهقي میں ہے:

278 - وأخبرنا أبو القاسم عبد الواحد بن محمد بن إسحاق بن النجار المقري بالكوفة، أنا أبو القاسم جعفر بن محمد بن عمرو الأخمسي، ثنا أبو حصين الوادعي، ثنا يحيى الحماني، ثنا حفص، عن ليث، عن طلحة، عن أبيه، عن جده " أنه أبصر النبي صلى الله عليه وسلم حين توضأ مسح رأسه وأذنيه وأمر يديه على قفاه ".

( كتاب الطهارة، أبواب سنة الوضوء وفرضه، باب إمرار الماء على القفا، 1 / 99، دار الكتب العلمية، بيروت - لبنات)

رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:

"(ومسح الرقبة) بظهر يديه (لا الحلقوم) لأنه بدعة.

(قوله: ومسح الرقبة) هو الصحيح، وقيل: إنه سنة كما في البحر وغيره (قوله: بظهر يديه) أي لعدم استعمال بلتهما بحر، فقول المنية: بماء جديد لا حاجة إليه كما في شرحها الكبير، وعبر في المنية بظهر الأصابع ولعله المراد هنا (قوله: لأنه بدعة) إذ لم يرد في السنة."

( كتاب الطهارة، سنن الوضوء، 1 / 124، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211201029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں