بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 رجب 1444ھ 27 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

گھر والوں کی وجہ سے رشتہ داروں سے تعلق ختم کرنا


سوال

ہمارے کچھ رشتہ دار ہیں جن کی ہمارے گھر والوں سے لڑائی ہے، اب ہمارےگھر والے کہتے ہیں کہ آ پ بھی ان سے تعلق قائم نہ رکھیں اور نہ ان سے ملیں تو اس صورت میں ہم کیا کریں؟

جواب

اپنے گھر والوں کو صلہ رحمی کے فضائل اور قطع رحمی پر وعیدات سے گھر والوں کو آگاہ کریں،  اگر گھر والوں نے ان رشتہ داروں سے تعلقات سے منع کیا ہے تو ان کی اس بات کو ماننا ضروری نہیں ہےاور  اگر ان  کے گھر جانے سے منع کیا ہو تو ان کی بات ماننا قطع رحمی میں داخل نہ ہوگا، البتہ یہ رشتہ دار  اگر آپ کے گھر آتے ہیں، یا ان سے کہیں ملاقات ہوتی ہے، اس وقت ان سے نہ ملنا قطع رحمی میں شامل ہوگا۔ 

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے(جلد8 ص:541، 542):

والدین کی اطاعت اور رشتہ داروں سے قطع تعلقی

س… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کے مطابق اللہ تعالیٰ کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور دُوسری جگہ ارشاد ہے کہ تیری جنت یا دوزخ والدین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان احادیث کی کمی بیشی معاف فرمائے تو آج کل کیا ہر زمانے میں والدین تو اس چیز میں یا کام میں راضی ہوتے ہیں جن پر وہ خود عمل کر رہے ہوتے ہیں، یعنی آباء و اجداد کے طریقے پر۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ رشتہ داری نہ توڑو، مگر والدین کہتے ہیں کہ کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں ہے، جس سے ہم راضی ہیں ان سے بولو، دُوسروں کو چھوڑ دو۔ والدین اپنے آبائی طریقوں پر عمل کرنے والے سے خوش ہوتے ہیں، قرآن و سنت کے مطابق عمل کرنے والا ان کو بہت بُرا لگتا ہے، والدین کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے مگر پھر بھی وہ اولاد سے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمیں خدمت کرنا بھی چاہئے مگر آمدنی اتنی کم ہو کہ اپنا اور بچوں کا گزارا مشکل سے ہوتا ہو تو کیا کیا جائے؟

ج… والدین کی خدمت و اطاعت فرض ہے لیکن جائز کاموں میں، اور اگر والدین کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو ان کی اطاعت حرام ہے۔

كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال (5/ 792):

عن ابن سيرين أن عمران بن حصين قال للحكم الغفاري: أسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا طاعة للمخلوق في معصية الخالق؟ قال: نعم.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں