بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

گاؤں سے سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر جمعہ کا حکم


سوال

میں ایک ایسے مسلم اسکول میں پڑھاتا ہوں جو گاؤں سے ایک کلو میٹر کی دوری پر کھیتوں میں بنا ہے اور ایسے آدمی کے تحت ملازمت کرتا ہوں جو جمعہ کی نماز اداکرنےکیلئے گاؤں یاشہر کی مسجدمیں جانے نہیں دیتا بلکہ چھٹی کے بعد اسکول کی مسجد میں ہی نماز جمعہ پڑھنے کو کہتا ہے تو کیا ہمیں اسکول کی مسجد جو گاؤں سے ایک کلو میٹر دور ہے اس میں جمعہ کی نماز پڑھنی چاہئے یا اپنی علیحدہ   ظہر کی نماز پڑھنی چاہیے یا ایسی ملازمت ترک کردینی چاہیے؟ 

تنقیح(1)۔جس اسکول میں آپ پڑھاتے ہیں اس کے قریب شہر ہے یا گاؤں؟

جوابِ تنقیح:گاؤں ہے۔

تنقیح(2)۔آپ کا اسکول شہر  یا گاؤں سے کتنے فاصلے پر ہےحتمی طور پر تعیین کریں؟

جوا بِِ تنقیح:ایک کلو میٹر کی دوری پرہے۔

تنقیح:(3)۔قریب موجود شہر یا گاؤں کی مجموعی آبادی کتنی ہے؟

جوابِ تنقیح:گاؤں کی مجموعی آبادی چار ہزار سے زیادہ ہے۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ گاؤں قریہ کبیرہ ہے جس کی مجموعی آبادی چار ہزار سے زائدنفوس پر مشتمل ہے، تو اس صورت میں مذکورہ  گاؤں میں جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرنا نہ صرف جائز  بلکہ فرض ہے،تاہم زیرِنظر مسئلہ میں سائل گاؤں سے ایک کلومیڑ کے فاصلے پر کھیتوں میں  بنے ہوئےجس اسکول میں پڑھاتا ہے  تو یہ مقام چونکہ گاؤں سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لہذا یہ  جگہ  مذکورہ گاؤں سے متصل نہ ہونےکی وجہ سے اس جگہ جمعہ کی نماز قائم کرنا درست نہیں اور سائل پربھی جمعہ کی ادائیگی لازم نہیں ،بلکہ سائل پر ظہر کی ادائیگی ہی لازم ہے،لہذا اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر سائل  اپنی ملازمت  ترک  نہ کرے۔

نیز اگر ہیڈ صرف اتنی اجازت دے کہ جامع مسجد میں خطبہ اور فرض ادا کر لے تو ایسے ہی کر لیں،سنت اور نفل اول و آخر کے اسکول میں ادا کر لیں،تو بھی درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لا ‌تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات."

(كتاب الصلوة،باب صلوة الجمعة،138/2،ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"واختلفوه فيما يكون من توابع المصر في حق وجوب الجمعة على أهله فاختار في الخلاصة والخانية أنه الموضع المعد لمصالح المصر متصل به، ومن كان مقيما في عمران المصر وأطرافه، وليس بين ذلك الموضع وبين عمران المصر فرجة فعليه الجمعة، ولو كان بين ذلك الموضع وبين عمران المصر فرجة من مزارع أو مراع كالقلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع، وإن سمعوا النداء والغلوة والميل والأميال ليس بشرط."

(کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ الجمعة،152/2،ط:دار الکتب الاسلامي)

وفیہ ایضاً:

"واختار في البدائع ما قاله بعضهم أنه إن أمكنه أن يحضر الجمعة ويبيت بأهله من غير تكلف تجب عليه الجمعة وإلا فلا، قال وهذا أحسن اهـ.

واختار في المحيط اعتبار الميلين فقال وعن أبي يوسف في المنتقى لو خرج الإمام عن المصر مع أهله لحاجة مقدار ميل أو ميلين فحضرت الجمعة جاز أن يصلي بهم الجمعة، وعليه الفتوى؛ لأن فناء المصر بمنزلته فيما هو من حوائج أهله وأداء الجمعة منها اهـ.وذكر الولوالجي في فتاويه أن المختار للفتوى قدر الفرسخ؛ لأنه أسهل على العامة، وهو ثلاثة أميال اهـ.

وذكر في المضمرات وقال الشيخ الإمام الأجل حسام الدين يجب على أهل المواضع القريبة إلى البلد التي هي توابع العمران الذين يسمعون الأذان على المنارة بأعلى الصوت، وهو الصحيح لزوما وإيجابا اهـ.

فقد اختلف التصحيح والفتوى كما رأيت ولعل الأحوط ما في البدائع فكان أولى وذكر في غاية البيان أن فناء المصر ملحق به في وجوب الجمعة لا في إتمام الصلاة بدليل أنه يقصر الصلاة فيه ذهابا وإيابا."

(کتاب الصلوۃ،باب صلوۃ الجمعة،152/2،ط:دار الکتب الاسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها.

أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى."

(كتاب الصلوة،فصل بيان شرائط الجمعة،259/1،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101991

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں