بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

گاؤں میں جمعہ کی نمازہونے کی شرائط


سوال

 متعدد قری  پر مشتمل علاقہ میں نماز جمعہ کیسا ہے؟ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ،ہمارے علاقے میں ایک جگہ میں ایک اڈہ ہے جس میں پچاس ساٹھ دوکانیں ہیں ،اور اس اڈہ کے ساتھ ایک گاؤں بنام خڑہ وڑہ جس میں اٹھارہ گھر ہیں ،اس گاؤں کے متصل 265 میٹر خالی جگہ ہے ،اور پھر دوسرا گاؤں ہے جس میں 30گھر ہے ،اڈے کے شمال کے طرف چھ سو 600 میٹر دور ایک گاؤں بنام کاروندہ ہے، جسمیں 30گھر ہیں،اس اڈے کے مغرب کے ایک گاؤں بنام کمپین جس میں 20 گھر ہیں، 500 میٹر سے زیادہ فاصلہ رکھتاہے ،ان چاروں گاؤں کے درمیان بھی فاصلہ ہے ،400 میٹر سے زیادہ تو ان سارے گاؤں کو نماز جمعہ کے لئے ایک گاؤں شمار ہوتا ہے یا ایک گاؤں شمار نہیں ہوتا؟

جواب

واضح رہے کہ  حنفیہ کے نزدیک جوازِ  جمعہ کے لیے اس جگہ کا مصر ہونا یا فنائے مصر ہونا یا قریہ کبیرہ (بڑا گاؤں) کا ہونا شرط ہے، قریہ کبیرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ گاؤں اتنا بڑا ہو جس کی مجموعی آبادی کم از کم ڈھائی تین ہزار نفوس پر مشتمل ہو، اس گاؤں میں ایسا بڑا بازار ہو، جس میں روز مرہ کی تقریباً تمام اشیاء با آسانی مل جاتی ہوں، جس گاؤں میں یہ شرائط نہ پائی جائیں تو اس جگہ جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرنا جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل کی رو سے ہر گاؤں ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے،لہذا جس گاؤں میں مذکورہ بالا  نمازِ جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہوں تو اس میں جمعہ و عیدین  کی نماز ادا کرنا صحیح ہوگی ،اور جس گاؤں میں مذکورہ بالا نمازِ جمعہ کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں تو اس میں جمعہ و عیدین کی نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہوگی،بلکہ جمعہ کے دن ظہر کی باجماعت نماز ادا کرنا لازم ہوگا ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"عن أبي حنيفة رحمه الله: أنه بلدة كبيره فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم مجشمته وعلمه أو علم غيره، والناس يرجعون إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الأصح". 

(كتاب الصلوة ،فصل بيان شرائط الجمعة، ج: 1، ص: 260 ،ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وتقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنها لاتجوز في الصغيرة".

(كتاب الصلوة،ج: 1، ص: 537، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"لاتجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب، كذا في المضمرات".

(كتاب الصلوة،ج: 2، ص: 138، ط: سعيد)

وفيه أيضا:

"(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض قدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى.وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه فليحفظ."

(كتاب الصلوة، باب صلوة الجمعة، ج: 2، ص: 138، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں