بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گندم کےنجس دانوں کی پاکی کا طریقہ


سوال

گندم اگر نجاست کی وجہ سے پھول جائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ گندم کے جو دانے یقینی طور پر  نجس ہو کر پھول چکے ہیں انہیں استعمال کرنا جائز نہیں۔ اور نہ انہیں پاک کرنے کا کوئی طریقہ ممکن  ہے۔

ہاں اگر گندم ڈھیر کی شکل میں ہے اور اس ڈھیر کا اکثر حصہ پاک ہے، آدھے سے کم ناپاک ہے اور اس میں معلوم نہ ہو کہ کون  سے دانے نجس ہیں  تو  اس کے پاک کرنے کا طریقِ کار یہ ہے کہ اس کو  تقسیم کردیا جائے تو  سارے ڈھیر پر پاکی کا حکم لگایا جائے گا؛ کیوں کہ  تقسیم کی بنا پر ہر حصہ میں یہ احتمال ہے کہ نجاست اس حصہ میں نہ ہو، بلکہ دوسرے حصہ میں ہو، اسی احتمال کی وجہ سے ہر حصہ کی طہارت میں شک واقع ہوگیا، لیکن چوں کہ اشیاء میں اصل طہارت ہے، اس لیے سارے ڈھیر پرطہارت کا حکم لگایا جائے گا۔

وفی الدر المختار (1 / 328):

(كما لو بال حمر) خصها لتغليظ بولها اتفاقًا (على) نحو (حنطة تدوسها فقسم أو غسل بعضه) أو ذهب بهبة أو أكل أو بيع كما مر (حيث يطهر الباقي) وكذا الذاهب لاحتمال وقوع النجس في كل طرف كمسألة الثوب.

وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار) تحته:

(قوله: فقسم إلخ) الظاهر تقييده بما إذا كان الذاهب منه قدر ما تنجس منه إن علم قدره كما قدمناه. (قوله: كما مر) أي: في الأبيات المتقدمة حيث عبر بقوله: تصرفه في البعض وهو مطلق ط. (قوله: لاحتمال إلخ) أي: إنه يحتمل كل واحد من القسمين أعني الباقي والذاهب أو المغسول أن تكون النجاسة فيه فلم يحكم على أحدهما بعينه ببقاء النجاسة فيه، وتحقيقه أن الطهارة كانت ثابتةً يقينًا لمحل معلوم وهو جميع الثوب مثلاً ثم ثبت ضدها وهو النجاسة يقينًا لمحل مجهول، فإذا غسل بعضه وقع الشك في بقاء ذلك المجهول وعدمه لتساوي احتمالي البقاء وعدمه، فوجب العمل بما كان ثابتًا يقينًا للمحل المعلوم؛ لأنّ اليقين في محل معلوم لايزول بالشكّ، بخلاف اليقين لمحل مجهول.

وتمام تحقيقه في شرح المنية الكبير.( ردالمحتارباب الانجاس  ۔ط:سعید۔ج۱ص۳۲۸) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں