بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

گندگی کے کھڈے کی سطح پر نماز کا حکم


سوال

باتھ روم کی گندگی کے لیے ہمارے علاقے میں باتھ روم کے نیچے ایک بہت بڑا کھڈا (ڈاٹ)بنایا جاتاہے، اوپر سے اس کو بند کیا جاتا ہے۔اگر یہ کھڈا کسی کمرے کے نیچے بنا کر اوپر کمرہ بنادیا جاتاہے تو اس کمرے کے فرش پر نماز پڑھنا کیساہے؟ جب کہ گنداگی اس کمرے کے فرش کے نیچے موجود ہوتی ہے۔ اور یہ بھی بتائیں کہ باتھ روم کے اوپر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

اگر ناپاکی کے کھڈے  یا گٹر وغیرہ کی سطح  والا فرش جہاں کھڑے ہو کر نماز پڑھی جاری ہے پاک ہو ،  اور وہاں نجاست کی بدبو نہ آتی ہو  تو  وہاں نماز پڑھنا جائز ہے، عموماً جن علاقوں میں ایسا گڑھا بنایا جاتاہے، اسے اوپر سے بالکل بند کردیا جاتاہے، جس کی وجہ سے اس کی بدبو کمرے میں نہیں آتی، نیز اس کھڈے پر مستقل فرش ہوتاہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایسے کمرے میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  (1 / 472):
"(وأما) طهارة مكان الصلاة فلقوله تعالى: {أن طهرا بيتي للطائفين والعاكفين والركع السجود} وقال في موضع : {والقائمين والركع السجود}، ولما ذكرنا أن الصلاة خدمة الرب  تعالى  وتعظيمه، وخدمة المعبود المستحق للعبادة وتعظيمه بكل الممكن فرض، وأداء الصلاة على مكان طاهر أقرب إلى التعظيم، فكان طهارة مكان الصلاة شرطًا، وقد روي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه {نهى عن الصلاة في المزبلة، والمجزرة، ومعاطن الإبل، وقوارع الطريق، والحمام، والمقبرة، وفوق ظهر بيت الله  تعالى}..." الخ

فتاوی شامی میں ہے:

"لایکره  ماذکر أي من الوطء و البول والتغوط فوق بیت أي فوق مسجد البیت أي موضع أعد للسنن و النوافل بان یتخذ له محراب و ینظف و یطیب کما أمر به صلى الله عليه وسلم فهذا مندوب لکل مسلم فهو کما لو بال علی سطح بیت فیه مصحف وذالك لایکره". (ردالمحتارعلی الدرالمختار، ج:1، ص:657 ط:ایچ ایم سعید) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112200370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں