بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

گلیوں میں گرنے والے پانی کاحکم


سوال

 گھروں سے نکلنے والے پائپوں سے جو پانی گلی میں آتا ہے یا پائپ لیک ہونے کی صورت میں جو پانی ٹپکتا ہے ،اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے تو کیا حکم ہے،90 یا 95 فیصد پائپ وہ فلیش لائن کے علاوہ دوسرے پانی کے ہوتے ہیں مثلا بیسن یا کچن وغیرہ کے ،اب اگر کپڑوں پر وہ ٹپکتا ہوا پانی یا اس کی چھینٹیں  کپڑوں پر لگ جائیں  اور پانی کس لائن کا ہے؟ معلوم نہ ہو تو اکثر پر حکم لگا دیا جائے گا یا نہیں؟ ،اور اگر کوئی قطرہ  زمین پر لگا اور اس کی چینٹھیں اڑے اور کپڑوں پر لگ گئے لیکن وہ اتنی باریک تھے کہ جب کپڑوں کو دیکھا گیا تو نظر نہیں آرہے تھے تو اس کا کیا حکم ہو گا۔؟

جواب

صورت مسئولہ میں فلش ٹینکی کا پانی یا پانی کی وہ  لائن جو فلش ٹینک میں آرہی ہے اس کاپانی شرعا ناپاک نہیں ہوتا البتہ سیوریج کا پانی  جو استنجاکے دوران استعمال ہو کر سیوریج لائن میں چلا جاتا ہے تو ایسا پانی ناپاک ہو تا ہے ،لہذا سائل  زیر نظر مسئلہ  میں خواہ مخواہ  وسوسہ اور وہم کا شکار نہ ہو   ،پاک پانی جسم یا کپڑے پر لگ جائے تو اس سے کوئی چیز نجس نہیں ہو تی ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے :

"قال في المنية: وعلى هذا ماء المطر إذا جرى في الميزاب وعلى السطح عذرات فالماء طاهر، وإن كانت العذرة عند الميزاب أو كان الماء كله أو نصفه أكثره يلاقي العذرة فهو نجس وإلا فطاهر. اهـ. وعلى ما رجحه الكمال قال في الحلية: ينبغي أن لا يعتبر في مسألة السطح سوى تغير أحد الأوصاف".

(کتاب الطھارۃ، باب المیاہ،1/ 188،سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144409101639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں