بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

گائے کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی تو وہ کس کی ملکیت شمار ہوگی؟


سوال

 ایک آدمی  نے گائےخرید لی،  ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکل آئی ،  اب یہ کس کی ملکیت ہوگی ؟ اس کا استعمال کیسا ہے؟

جواب

گائے کے پیٹ سے برآمدہ شدہ سونے کی انگوٹھی  لقطہ (گمشدہ چیز) کے حکم میں ہے۔ یعنی: اس پر  لقطے کے اَحکام لاگو ہوں گے،  جب تک امید ہو کہ مالک اس کو تلاش کرےگا اس وقت تک اس کی تشہیر کی جائے گی،  اگر مالک نہیں ملا تو پھر اس کو صدقہ کیا جائے گا۔اگر جس بندے کو ملا ہے وہ خود فقیر (مستحقِ زکات) ہو تو وہ خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔ البتہ اگر اس کے بعد مالک آگیا اور اس نے انگوٹھی کا مطالبہ کیا تو مالک کو انگوٹھی کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

الدر المختار میں ہے:

"(سمكة في سمكة فإن كانت المظروفة صحيحةً حلتا) ...و لو وجد فيها درةً ملكها حلالًا، و لو خاتمًا أو دينارًا مضروبًا لا، و هو لقطة."

(الدر المختار، كتاب الذبائح، (ص: 643) ط: دار الكتب العلمية، الطبعة: الأولى، 1423هـ- 2002م)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"و إذا رفع اللقطة يعرفها فيقول: التقطت لقطة، أو وجدت ضالة، أو عندي شيء فمن سمعتموه يطلب دلوه علي، كذا في فتاوى قاضي خان. ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لايطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لايرجع على الفقير و إن ضمن الفقير لايرجع علىالملتقط و إن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين."

(الفتاوی الهندية: كتاب اللقطة(2/ 289، 290)،ط. رشيديه، كوئته باكستان)

مجمع الانہرمیں ہے:

"(و للملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لو) كان (فقيرًا) لأن صرفه إلى فقير آخر كان للثواب وهو مثله."

(مجمع الانهر: كتاب اللقطة، الانتفاع باللقطة (1/ 708)،ط.  دار إحياء التراث العربي)

فقط، والله اعلم


فتوی نمبر : 144205201005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں