بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ذو الحجة 1443ھ 07 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم ملک میں مقیم بھائی کا پاکستان میں رہنے کا وعدہ کرکے بیٹے کو بھائیوں کے کاروبار میں شریک کرنا اور پھر وعدہ خلافی کرنا


سوال

ہم تین بھائی ایک کاروبار میں شریک تھے ،جن میں سے دو بھائی پاکستان میں کاروبار کرتے تھے اور ہمارا تیسرا بھائی کینیڈا میں رہتا تھا، جب ہمارا بھائی کینیڈا سے واپس آیا تو اس نے ہم سے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو بھی کاروبار میں شریک کر لیں ،کیوں کہ کینیڈا ایک غیر اسلامی ملک ہے اور وہاں بے پردگی بھی بہت ہے، میں نہیں چاہتا کہ مجھے غیر اسلامی ملک میں موت آئے، اگر آپ میرے  بیٹے کو بھی کاروبار میں شریک کر لیں گے تو میں بھی واپس پاکستا ن شفٹ ہو جاؤں گا ، ہم ہمدردری کرتے ہوئے  اپنے بھائی کے بیٹے کو بھی کاروبار میں شریک کرنے پر راضی ہوگئے  اور  اس نے کاروبار میں 25 فیصد سرمایہ لگایا  اور ہم  اپنا نفع کم کرکے 25 فیصد پر راضی ہوگئے ،کیوں کہ اس کاروبار میں شراکت داروں کی تعداد 4 ہو گئی تھی، مگر جیسے ہی ہمارے بھائی نے اپنے بیٹے کو کاروبار میں شریک کرالیا  تو اگلے چند ہی مہینوں کے بعد ہمارا بھائی دوبارا کینیڈا چلا گیا، یاد رہے کہ بھائی کے بیٹے کو کاروبار میں شریک کرنے سے ہمارا شیئر بھی کم ہوا اور نفع بھی کم ہوا ہم نے تو یہ سوچ کر بھائی کے بیٹے کو کاروبار میں شریک کر لیا تھا تاکہ بھائی یہاں اسلامی ملک میں رہ کر اسلامی زندگی گزارے، مگر بھائی بیٹے کو کاروبار میں شریک کرانے کے بعد معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واپس کینیڈا چلا گیا تو کیاہمارئے بھائی کا  یہ عمل درست ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے مذکورہ بھائی نے اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں اپنے بیٹے کو یہ کہہ کر شریک کرایا تھا کہ وہ پاکستان شفٹ ہوگا ، کینیڈا نہیں جائے گااور اس کے دل میں اس معاہدے کی پاسداری کرنے کا ارادہ تھا، لیکن کسی عذر کی وجہ سے وہ اس وعدے کو پورا نہ کر سکا اور کینیڈاواپس چلا گیا تو وہ وعدہ خلافی کا مرتکب نہیں ۔

لیکن اگر وعدہ کرتے ہوئے ہی اس کے دل میں اس کی خلاف ورزی کا ارادہ تھا یا اس نے بغیر کسی عذر کے وعدہ کو پورا نہیں کیا تو وہ وعدہ خلافی کا مرتکب ہے ،قرآنِ کریم اور سنتِ مطہرہ میں وعدہ خلافی کرنے والے کے لیے سخت وعیدیں ہیں۔

 صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف  کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد ‌أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ "

 

(كتاب الإيمان ،‌‌باب علامة المنافق 1/ 16، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)

سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِ ‌إِنَّ ‌ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولًا۔"

[الإسراء: 34] 

ترجمہ:اور پورا کروہ عہد کو بے شک عہد کی پوچھ ہوگی۔(تفسیر عثمانی)

تاہم بھائی کے اس عمل کے باوجود کاروبار میں اس کے بیٹے کی  شراکت  ہو چکی ہے، وہ نفع میں سے اپنے حصہ کا حق دار ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"الخلف في الوعد حرام،كذا في أضحية الذخيرة وفي القنية: وعده أن يأتيه فلم يأته لا يأثم ولا يلزم الوعد إلا إذا كان معلقا؛ كما في كفالة البزازية۔"

اس کے حاشیہ میں علامہ محمد علی الرافعی تحریر فرماتے ہیں:

"قوله:(وفي القنية وعده) والتوفيق بينه وبين الأول بحمل الأول على ما إذا وعد و في نيته الخلف فيحرم والثاني على ما إذا نوى الوفاء وعرض مانع۔"

(الفن الثاني،كتاب الحظر والإباحة،ص:159، ط:سعید)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"«قال النووي: أجمعوا على أن من وعد إنسانا شيئا ليس بمنهي عنه فينبغي ‌أن ‌يفي بوعده، وهل ذلك واجب أو مستحب؟ فيه خلاف ; ذهب الشافعي وأبو حنيفة والجمهور إلى أنه مستحب، فلو تركه فاته الفضل وارتكب المكروه كراهة شديدة»۔"

(كتاب الآداب،باب المزاح7/ 3067،ط:دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں