بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1443ھ 25 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

غیرمملوکہ متعین گائے ذبح کرنے کی نذر مانی تو اس کا پورا کرنا لازم نہیں ہے


سوال

(1) ایک عورت نے نذر مانی "اگر اس کا بچہ چھت سے گر کر بچ گیا تو متعین گائے ذبح کرے گی"اب اس متعین گائے کا مالک اس کا شوہر ہے اور وہ عورت یہ سمجھ رہی  تھی کہ میں بھی اس کی مالک ہوں،چنانچہ اس کا بچہ بچ گیا، اب سوال یہ ہے کہ اس عورت پر اس گائے کا ذبح کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

(2)  اگر وہ گائے گابھن ہو تو اس کو اس حالت میں ذبح کریں گے یا بچہ جننے کے بعد؟

(3) نذر کا جانور ذبح کرنے کے بعد ایک آدمی کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟ 

جواب

(1) صورت مسئولہ میں شوہر کی ملکیت میں موجود متعین  گائے ذبح کرنے کی نذر ماننے سے نذر منعقد  ہی نہیں ہوئی، کیونکہ متعین جانور کی  نذر ماننے کی صورت میں نذر منعقد ہونے کے لئے اس کا مالک ہونا ضروری ہے جبکہ مذکورہ  متعین گائے عورت کی ملکیت نہیں ہے، لہذا یہ نذر ہی درست نہیں ہوئی، جب نذر درست نہیں ہوئی تو اس کا پورا کرنا بھی لازم نہیں ہے۔نیز چونکہ آخری دو سوال نذر لازم ہونے پر تھے اس لئے ان کے  جواب کی اگرچہ ضرورت نہیں رہی تاہم فائدے کی غرض سے عمومی جوابات لکھے جارہے ہیں۔  

(2) اگر کسی  شخص نے کسی متعین جانور کے ذبح کی نذر مانی ہے، اور اس جانور  کے پیٹ میں بچہ ہو تو اس صورت میں نذر کے حکم میں جانور اور اس کا بچہ دونوں شامل ہوں گے۔  جس کام پر نذر کو معلق کیا ہے وہ کام ہوچکا ہوتو اس صورت میں وہ جانور ذبح کرنا لازم ہے، اور بہتر یہ ہے کہ نذر کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے ، بچہ زندہ نکل آئے تو اسے بھی ذبح کیاجائے گا،اور دونوں کا گوشت فقراء پر صدقہ کیاجائے گا۔ البتہ اگر متعین جانور  کے ذبح کی نذر نہیں مانی، بلکہ مطلق جانور کے صدقہ کرنے کی نذر مانی تھی تو اس صورت میں جانور کے ذبح کی  بجائے اس کی قیمت کا صدقہ کرنا بھی کافی ہے۔

(3) نذر کا جانور ذبح کرنے کے بعد ایک فقیر کو دیا جائے یا متعدد فقراء کو ،  دونوں طرح سے جائز ہے۔ 

حاشية ابن عابدين:

’’ وفي البحر شرائطه خمس فزاد: أن لا يكون معصية لذاته فصح ‌نذر ‌صوم ‌يوم النحر لأنه لغيره وأن لا يكون واجبا عليه قبل النذر فلو نذر حجة الإسلام لم يلزمه شيء غيرها وأن لا يكون ما التزمه أكثر مما يملكه أو ملكا لغيره، فلو نذر التصدق بألف ولا يملك إلا مائة لزمه المائة فقط خلاصة انتهى‘‘ 

’’ (قوله: أو ملكا لغيره) فإن قيل: إن النذر به معصية فيغني عنه ما مر قلنا إنه ليس معصية لذاته، وإنما هو لحق الغير أفاده في البحر لكنه خارج بكونه لا يملكه فيشمل الزائد على ما يملكه وما لا ملك له فيه أصلا كهذا وفي البحر عن الخلاصة لو قال: لله علي أن أهدي هذه الشاة وهي ملك الغير لا يصح النذر بخلاف قوله: لأهدين ولو نوى اليمين كان يمينا اهـ‘‘

(كتاب الأيمان، مطلب في أحكام النذر، ج:3،ص:736،ط: سعيد)

وفيها ايضا:

"ولدت الأضحية ولدًا قبل الذبح يذبح الولد معها.

(قوله: قبل الذبح ) فإن خرج من بطنها حيًّا فالعامة أنه يفعل به ما يفعل بالأم، فإن لم يذبحه حتى مضت أيام النحر يتصدق به حيًّا".

(ج:6، ص:322، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144303100789

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں