بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

گاڑی بکوانے پر کمیشن لینا


سوال

السلام علیکم،مفتی صاحب عرض یہ کرنا تھا کہ جو لوگ گاڑیوں کاکام کرتے ہیں تو ان کے یہاں یہ بات طے ہوتی ہے کہ جس نے گاڑی بکوائی تو وہ مالک سے ۵۰۰۰ روپے لے گا اور جس کو دلوائی اس سے بھی اتنے ہی لے گا،تو اس طرح پیسے متعین کرنا صحیح ہے، اور ایک اصول یہ بھی ہے کہ جس کی دوکان پر گاڑی کھڑی کر کے بیچی ہے اس شو روم والے کو بھی متعین پیسے دے گا،تو کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں گاڑی بکوانے والا جو رقم فروخت کنندہ اور خریدار سے وصول کرتا ہے وہ اس کا کمیشن ہوتا ہے،اور کمیشن میں متعین رقم طے کرنا درست ہے،نیز جس کی دوکان پر گاڑی کھڑی کر کے بیچی جا رہی ہے وہ جومتعین رقم کا مطالبہ کرتا ہے وہ اس کی دوکان استعمال کرنے کا کرایہ ہوتا ہے اور اس رقم کو متعین کرنے میں بھی شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔


فتوی نمبر : 143410200037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں