بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1443ھ 05 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

جی پی فنڈ سے متعلق ایک سوال


سوال

 میں نے كسی ضرورت كی بنا پرتین لاكھ روپے جی پی فنڈ لیا تھا،  جس كے بدلے میری تنخواه سے ماهانه 7000 روپے كٹوتی بھی جاری هے! لیكن اب میرے هاتھ كچھ رقم آئی هے جس کی وجه سےمیرا اراده هے كه میرے ذمہ جتنی كٹوتی باقی هے اب وه ایك ساتھ ادا كردوں؛ تاكه مجھ سےیه ماهانه 7000كٹوتی نه هو! اس كا حل بتادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ جی پی فنڈ کی مد میں لی ہوئی رقم کمپنی کو یک مشت ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس میں تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ البتہ اگر جی پی فنڈ کی مد سے قرض لے کر واپسی کی صورت میں کچھ رقم اضافی ادا کرنے کا معاہدہ ہوا ہو یا ادارے کا ضابطہ ہو کہ واپسی کے وقت ملازم کچھ اضافی رقم (سود) بھی ادا کرے گا تو یہ سودی معاہدہ ہوا، اور اس ضمن میں اگر اضافی رقم ادا کی گئی تو یہ سود دیا گیا، اس گناہ پر سچی توبہ لازم ہوگی،  اور اگر معاہدے کی یہی صورت ہے کہ اضافی رقم واپس کرنی پڑ رہی ہے تو سائل کو یہ قرض یک مشت ادا کرکے جلد از جلد اس معاملے سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

باقی ادارے کی طرف سے جی پی فنڈ کی کٹوتی اور اس پر ملنے والے اضافے کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:

جی پی فنڈ کی رائج صورتیں:

1- بعض ادارے اپنے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بناتے ہیں اور ملازم کو عدمِ شمولیت کا اختیار نہیں دیتے، ہر ماہ تنخواہ دینے سے پہلے ہی طے شدہ شرح کے مطابق جبری کٹوتی کرلی جاتی ہے اور بقیہ تنخواہ ملازم کو دے دی جاتی ہے۔

2- بعض اداروں کی طرف سے ہر ملازم کے لیے اس فنڈ کا حصہ بننا لازمی نہیں ہوتا، بلکہ ملازمین کو اختیار ہوتاہے کہ اپنی مرضی سے جو ملازم اس فنڈ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اس فنڈ کا حصہ بن سکتا ہے اور ملازمین کی اجازت سے ہر ماہ طے شدہ شرح کے مطابق ان کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے مذکورہ فنڈ میں جمع کی جاتی رہتی ہے۔

3- بعض ادارے ہر ملازم کو جبراً اس فنڈ کا حصہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملازمین کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر کوئی ملازم اس فنڈ میں مقررہ شرح سے زیادہ رقم جمع کرانا چاہے تو کرا سکتا ہے؛ اس قسم کی کٹوتی کو جبری و اختیاری کٹوتی کہا جاتا ہے ۔

مذکورہ صورتوں میں ملنے والے اضافے کا حکم:

1- پہلی صورت( جبری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ یہ فنڈ کمپنی کی طرف سے ملازمین کے لیے تبرع و انعام ہوتا ہے اور ملازمین کے لیے یہ لینا شرعاً جائز ہوتا ہے۔ اس لیے ملازم نے اپنی رضامندی سے رقم جمع نہیں کروائی، ادارہ اس سے جس طرح بھی نفع کمائے ملازم اس کا ذمہ دار نہیں ہوتا، اور قانوناً و شرعاً ابھی تک مذکورہ رقم اس کی ملکیت میں بھی نہیں ہوتی؛ لہٰذا اس کے لیے اضافی رقم لینا جائز ہوگا۔ البتہ اگر کوئی احتیاطاً یہ رقم استعمال نہ کرے تو یہ تقوے کی بات ہے۔

2- دوسری  قسم (اختیاری کٹوتی)  کا حکم یہ ہے کہ ملازمین نے اپنی تنخواہوں سے جتنی کٹوتی کرائی ہے اتنی ہی جمع شدہ رقم وہ لے سکتے ہیں، زائد رقم لینا شرعاًجائز نہیں ہوتا ؛ کیوں کہ اس صورت میں ملازم اپنے اختیار سے کٹوتی کرواتاہے، گویا وہ اپنی جمع شدہ رقم کو سودی انویسٹمنٹ میں صرف کرنے پر راضی ہوتاہے، لہٰذا یہ اضافہ لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ سودی معاملے پر رضامندی بھی ناجائز ہے۔

3- تیسری صورت (جبری واختیاری کٹوتی) کا حکم یہ ہے کہ جتنی کٹوتی جبراً ہوئی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم ملازم کے لیے لینا شرعاً جائز ہوتا ہے اور جتنی رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زائد رقم لینا جائز نہیں ہوتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201199

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں